کراچی میں امن قائم کیوں نہیں ہوتا؟

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 13:59 GMT 18:59 PST

کراچی میں ان دنوں روزانہ دس سے پندرہ افراد بظاہر فرقہ وارانہ، سیاسی و لسانی بنیادوں پر قتل ہو رہے ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک جانب بظاہر فرقہ وارانہ، سیاسی و لسانی بنیادوں قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے اور دوسری جانب حکمراں اتحاد اور حزب اختلاف دونوں میں شریک سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک دوسرے کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دینے کی لفظی جنگ جاری ہے۔

ذرائع ابلاغ میں شائع شدہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ کراچی میں اس برس قتل ہونے والے اٹھارہ سو افراد میں سے تین سو ستّر افراد ہدف بنا کر قتل کی جانے والی وارداتوں یا ٹارگٹ کلنگز کا شکار ہوئے ہیں۔

ابتداً تو شہر سے کاروبار اور کارخانے باہر منتقل ہوتے رہے مگر اب شہریوں کا کہنا ہے کہ جسے موقع مل رہا ہے، پاکستان خصوصاً کراچی سے باہر جانے کے لیے کوشاں ہے۔

اس صورتحال پر مسلم لیگ نون سندھ کے نائب صدر سلیم ضیا کا کہنا ہے’ساڑھے چار برس میں تقریباً ساڑھے نو ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں جس میں تمام ہی سیاسی جماعتوں کے کارکنان، پولیس و رینجرز کے اہلکار، غیر وابستہ افراد بھی شامل ہیں مگر نہ تو کوئی پکڑا جاتا ہے نہ مقدمہ چلتا ہے، چلتا بھی ہے تو استغاثہ اس قدر کمزور ہوتا ہے کہ رہا ہوجاتا ہے، ضمانت مل جاتی ہے۔حکمراں اتحاد میں شریک تینوں جماعتیں، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی کو آپس میں بانٹ رکھا ہے، جتنا لڑائی جھگڑا ہے، بھتے پر ہے، تاوان پر ہے۔‘

کراچی میں اے این پی کے صوبائی سیکریٹری جنرل بشیر جان کہتے ہیں کہ کراچی کی بدامنی اب محض سیاسی جماعتوں کی چپقلش کا نتیجہ نہیں رہی۔

کراچی کی تقسیم

"ساڑھے چار برس میں تقریباً ساڑھے نو ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں جس میں تمام ہی سیاسی جماعتوں کے کارکنان، پولیس و رینجرز کے اہلکار، غیر وابستہ افراد بھی شامل ہیں مگر نہ تو کوئی پکڑا جاتا ہے نہ مقدمہ چلتا ہے، چلتا بھی ہے تو استغاثہ اس قدر کمزور ہوتا ہے کہ رہا ہوجاتا ہے، ضمانت مل جاتی ہے۔حکمراں اتحاد میں شریک تینوں جماعتیں، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی کو آپس میں بانٹ رکھا ہے، جتنا لڑائی جھگڑا ہے، بھتے پر ہے، تاوان پر ہے"

سلیم ضیا

’پہلے کسی وقت میں ٹھیک ہے کہ یہ بات کہی جاتی تھی کہ یہ دو سیاسی جماعتوں کا جھگڑا ہے، یا دو قومیتوں کا جھگڑا ہے مگر اس وقت تو ایسی کوئی صورتحال نہیں، پھر بھی کراچی کی بدامنی میں کمی نہیں آ رہی۔ اب باتوں کا وقت جا چکا جو بھی جرائم پیشہ عناصر ہیں ان کے خلاف کارروائی جانی چاہیے اور اگر پولیس یا رینجرز یہ کام نہ کر سکیں تو پھر فوج کو طلب کیا جانا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ جرائم ان ملکوں میں ہی رکتے ہیں جہاں مجرم کو پکڑے جانے، جیل جانے عدالت سے سزا ملنے کا خوف ہو۔ بدقسمتی سے پاکستان میں کوئی یا تو پکڑا ہی نہیں جاتا، یا چھوٹ جاتا ہے، یا عدالت میں ضمانت لے لیتا ہے، یا پے رول پر رہا ہو جاتا ہے۔

مسلم لیگ نون کے ان الزامات کے جواب میں کہ خود حکمراں اتحاد میں شریک سیاسی جماعتیں اس قتل و غارت کی ذمہ دار ہیں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما رضا ہارون کا کہنا ہے کہ انفرادی عمل کو کسی بھی سیاسی جماعت سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ ساری جماعت کی مرکزی قیادت تو مطالبہ کر رہی ہے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا آئینی و قانونی حق اور فرض نبھائیں کارروائی کریں ہماری مدد ان کے ساتھ ہے، جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ نہیں ہے۔

رضا ہارون کا کہنا ہے کہ متحدہ کے وزارء اور تو اختیار ہی نہیں رکھتے ہم سے کچھ بھی نہیں پوچھا جاتا نہ حکمت عملی بناتے وقت نہ کسی اور وقت تو پھر ان کی ذمہ داری ہے جن کا اختیار ہے۔

کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں یہ بھی کہا کہ کراچی کی پولیس سیاست زدہ ہو چکی ہے

ایسا ہی شکوہ اے این پی کے رہنما بشیر جان نے بھی کیا کہ امن و امان تو صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اور ہم صوبائی حکومت میں تھے۔ لیکن ہمارے محض دو ارکان تھے، ہماری نہیں سنی جاتی تھی لہذٰا ہم تو مجبوراً صوبائی حکومت سے الگ ہوگئے۔

مسلم لیگ نون کے رہنما سلیم ضیا کا کہنا ہے اس حکومت کے ہوتے ہوئے نہ پولیس کچھ کر سکتی ہے نہ رینجرز نہ ہی کوئی اور ادارہ۔ رینجرز، پولیس، وزیراعلیٰ، گورنر سب کچھ ان کا ہے کیوں نہیں امن قائم ہوتا؟

سوال یہ ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں بے بس و بے اختیار ہیں تو پھر اے این پی اور ایم کیو ایم حکمراں اتحاد اور اقتدار سے علیحدہ کیوں نہیں ہو جاتیں۔

رضا ہارون کہتے ہیں کہ ہر جماعت سیاست اس لیے کرتی ہے کہ حکومت میں رہ کر اپنے لوگوں کی خدمت کر سکے۔ اور گزشتہ جولائی میں تو ہم نے استعفے دیے تو تھے۔ حالات مزید خراب ہوگئے تھے پھر یہ سیاسی رہنما ہمارے پاس آتے ہیں کہ ویکیوم کریٹ نہ کرو۔

سیاسی جماعتیں کوئی بھی موقف اپنائیں اور حکومت کچھ بھی کہتی رہے،شہریوں کا کہنا ہے کہ چاہے ان کا کوئی بھی مسلک اور وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں، وہ نامعلوم قاتلوں کے رحم و کرم پر ہیں اور ریاست کی عملداری ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی کہیں نظر نہیں آتی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔