میانوالی جیل میں سابق فوجی کو پھانسی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 08:27 GMT 13:27 PST

پاکستان میں اس سے پہلے پھانسی کی سزا دسمبر دو ہزار آٹھ کو ایک سابق فوجی شاہد عباس کو دی گئی تھی۔

پاکستان صوبہ پنجاب کے شہر میانوالی کی مرکزی جیل میں ایک سابق فوجی محمد حسین کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔

یہ تقریباً چار برس میں پہلا موقع ہے کہ کسی قیدی کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے آخری پھانسی موجودہ حکومت کے دور میں ہی پانچ دسمبر دو ہزار آٹھ کو ایک اور فوجی شاہد عباس کو ایک کرنل کی اہلیہ اور بچوں کے قتل کے جرم میں دی گئی تھی۔

میانوالی جیل میں پھانسی پانے والے محمد حسین نے دو ہزار آٹھ میں حوالدار خادم حسین کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد منشا نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا انہیں سزا ملٹری ایکٹ کے رول ایک سو پچاس کے تحت سنائی گئی تھی اور سزا پر عملدرآمد کے لیے تاریخ سرگودھا کے کور کمانڈر نے متعین کی تھی۔

محمد منشا کے مطابق اس پھانسی کے لیے خصوصی طور پر جلاد جان مسیح کو کوٹ لکھپت جیل لاہور سے میانوالی لایا گیا تھا اور اس موقع پر فوج اور عدلیہ کے اہم اہلکار بھی موجود تھے۔

محمد حسین کے خلاف مقدمہ اوکاڑہ چھاؤنی کی فوجی عدالت میں پیش کیا گیا جس نے انہیں بارہ فروری دو ہزار نو کو موت کی سزا سنائی۔ اس کے بعد انہوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل فوج کے جنرل ہیڈکوارٹر راولپنڈی میں کی مگر وہاں بھی سزا کو برقرار رکھا گیا۔

اس کے بعد محمد حسین کی رحم کی اپیل فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی نے مسترد کر دی جس کے بعد دسمبر دو ہزار گیارہ کو ان کی رحم کی دوسری اپیل صدر پاکستان کو کی گئی اور انہوں نے بھی اپیل کو مسترد کردیا۔

"اگر ایک فوجی کسی غیر فوجی معاملے پر جرم کرتا ہے تو اسے سول قوانین کے مطابق ایک فوجی عدالت میں سزا دی جاتی ہے۔"

مجیب الرحمان ایڈوکیٹ

اس عمل کے بعد مقتول خادم حسین کے رشتہ داروں کو بذریعہ ڈی سی او مظفر آباد رابطہ کیا گیا اور محمد حسین کی جانب سے صلح کی درخواست دی گئی مگر انہوں نے بھی ان کی درخواست مسترد کردی۔

فوجی قوانین کے ماہر مجیب الرحمان ایڈوکیٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اگر ایک فوجی کسی غیر فوجی معاملے پر جرم کرتا ہے تو اسے سول قوانین کے مطابق ایک فوجی عدالت میں سزا دی جاتی ہے۔‘

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی زیر قیادت موجودہ مخلوط حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد نومبر دو ہزار آٹھ سے پھانسی کی سزا پر عارضی طور غیر معینہ مدت کے لیے پابندی لگا دی گئی لیکن اس کے باوجود 2008 دسمبر میں ایک فوجی کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔

انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں ملک میں دو ہزار نو سے سزائے موت پر غیر رسمی پابندی کے باوجود میانوالی کے جیل میں قیدی کو پھانسی پر مایوسی اور افسوس کااظہار کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ’ایچ آر سی پی کو میانوالی میں جمعرات کو ایک قیدی کو پھانسی دینے پر سخت صدمہ پہنچا ہے۔ اس اقدام سے پھانسی کے خلاف شروع چار سالہ تحریک متاثر ہوئی اور حکومت نے کسی کو پھانسی نہ دینے کا وعدہ تھوڑا ہے۔ پچلے چار سالوں میں پھانسی کے کئی فیصلوں پر عمل درآمد ملتوی کیا گیا۔‘

انسانی حقوق کمشن کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ موجودہ کیس میں حکومتی وعدے کی نظر انداز کیا گیا یا کہ اس ملزم کو فوجی عدالت نے سزا دی تھی۔ چار سال پہلے پھانسی ہونے والے شخص کو بھی فوجی عدالت نے سزاد دی تھی۔‘

ایچ آر سی پی نے بیان میں امید ظاہر کی کہ حکومت پاکستان میں سزائے موت کو ختم کرنے کے وعدے کو پورا کرے گی۔ انھوں نے فوج کے سربراہان سے اپیل کی کہ دنیا میں سزائے موت کو ختم کرنے کے مطالبے پر غور کرے اور ایسے اقدامات اٹھائیں کہ فوجی عدالتیں بھی انسانی حقوق کے لیے اٹھائی گئی آواز کو سنے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ماضی میں بھی سزائے موت پر ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان میں سزائے موت کے کسی ملزم کو آخری بار سنہ دو ہزار آٹھ میں پھانسی دی گئی تھی جس کے بعد سے ملک میں پھانسی پر ایک غیر رسمی پابندی عائد ہے۔

ایچ آر سی پی نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ دو ہزار آٹھ میں کیے گئے اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے تمام موت کی سزاؤں کو عمر قید میں تبدیل کردے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔