’اداروں کو حد میں رکھنا عدلیہ کی ذمہ داری‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 16:53 GMT 21:53 PST

سپریم کورٹ پر لوگوں کا اعتماد بھی بڑھتا جارہا ہے: چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ یہ عدالتِ عظمیٰ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی ادارے کو اس کی آئینی حدود سے تجاوز نہ کرنے دے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں فُل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ عدالت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کوئی بھی ادارہ کسی دوسرے ادارے کے امور میں مداخلت نہ کرے۔

اُنہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو کسی بھی ایسے معاملے کا عدالتی نوٹس لینے کا اختیار ہے جہاں پر آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہو۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں کوئی بھی ادارہ صرف اپنے بل بوتے پر گڈ گورننس قائم نہیں کر سکتا۔

یہ فُل کورٹ ریفرنس عدالت میں زیر سماعت مقدمات اور سپریم کورٹ کے انتظامی امور پر غور کرنے کے لیے طلب کیا گیا تھا اور اس میں چیف جسٹس سمیت چودہ ججز نے شرکت کی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ دوسرے اداروں کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس ادارے پر لوگوں کا اعتماد بھی بڑھتا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے سابق فوجی افسران کو غیرقانونی اقدامات کا مرتکب ٹھہرائے جانے کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بیان میں کہا تھا کہ کسی ادارے یا فرد کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے طور پر ملکی مفاد کا حتمی تعین کرسکے اور یہ صرف اتفاق رائے سے ہی ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام ادارے ملک کے لیے کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں لیکن کچھ لمحوں کے لیے رُک کر یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا قانون کی حاکمیت اور آئین کی بالادستی قائم ہو رہی ہے اور کیا ادارے مضبوط ہو رہے ہیں یا کمزور۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔