’مقدمے کی پیروی روکنے کے لیے حملہ کیا گیا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 16 نومبر 2012 ,‭ 17:37 GMT 22:37 PST

انعام الحق کورٹ مارشل سے سزا یافتہ بریگیڈیئر علی کے بھی وکیل رہے ہیں

نامعلوم افراد کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ ان پر حملہ انہیں بری فوج کے سربراہ کے خلاف مقدمے کی پیروی سے روکنے کی کوشش ہے۔

جمعہ کو بی بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے راولپنڈی کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ریٹائر قرار دینے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر اپنی درخواست نہ واپس لیں گے اور نہ ہی اس کی پیروی سے دستبردار ہوں گے۔

انعام الرحیم ایڈووکیٹ پر چند نامعلوم افراد نے دو روز قبل حملہ کیا تھا جس میں وہ زخمی ہو گئے تھے۔

انہوں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی بری فوج کے سربراہ کے عہدے پر مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف ایک درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جنرل کیانی کی عمر ساٹھ برس سے تجاوز کر چکی ہے لہذٰا وہ سرکاری ملازمت کرنے کے اہل نہیں ہیں۔

پاکستانی فوجی ذرائع کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کرنل انعام ان بے بنیاد الزامات کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان پر حملے کے واقعے میں کوئی فوجی ملوث نہیں تھا۔

"عدالت میں یہ درخواست دائر ہونے کے بعد فوجی سربراہ نے وہ بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے اداروں کو اپنی حدود میں رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ میں نے عدالت سے کہا کہ جنرل کیانی نے آپ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے لہذا میرے مقدمے کو جلد سنا جائے۔"

کرنل انعام الرحیم

پاکستانی فوجی سربراہ کے خلاف کرنل انعام کی یہ درخواست کئی ہفتے قبل دائر کی گئی تھی تاہم چند روز پہلے عدالت نے اسے سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔

بقول کرنل انعام ’عدالت میں یہ درخواست دائر ہونے کے بعد فوجی سربراہ نے وہ بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے اداروں کو اپنی حدود میں رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ میں نے عدالت سے کہا کہ جنرل کیانی نے آپ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے لہذٰا میرے مقدمے کو جلد سنا جائے‘۔

کرنل انعام کا کہنا ہے کہ عدالت نے ان کی درخواست اس بیان کے بعد سماعت کے لیے فوری طور پر منظور کر لی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی درخواست کا قابل سماعت ہونا فوجی قیادت کو ناگوار گزرا جس کے بعد انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

یاد رہے کہ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم پاکستانی فوج سے بغاوت کے مجرم قرار دیے گئے بریگیڈئیر علی خان کے بھی وکیل رہے ہیں۔ وہ لاپتہ ہونے والے متعدد افراد کے مقدمات کی بھی پیروی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔