’سیاحوں کو کشمیر جانے کی کھلی اجازت دیں‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 18 نومبر 2012 ,‭ 16:54 GMT 21:54 PST

غیر ملکی شہریوں کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سفر کرنے کے لیے پاکستان کی وزرات داخلہ کی طرف سے تحریری اجازت درکار ہوتی ہے

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیرِ سیاحت عبدالسلام بٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اپنے زیر انتظام کشمیر میں غیر ملکی سیاحوں کو آزادانہ طور پر سفر کی اجازت دے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر برائے سیاحت عبدالسلام بٹ نے اسلام آباد میں بی بی سی سٹوڈیو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی سیاحوں کو سفر کی اجازت ملنے کی صورت میں مقامی سیاحت کو فروغ ملے گا اور یہ ریاست کی خود انحصاری کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔

’لوگ( غیرملکی سیاح ) آزاد کشمیر( پاکستان کے زیر انتظام کشمیر ) کو دیکھنا چاہتے ہیں،میں کہتا ہوں کہ اگر مقبوضہ کشمیر( بھارت کے زیر انتظام کشمیر ) میں غیر ملکی سیاح جاتے ہیں تو” آزاد کشمیر” میں بھی آئیں، کوئی سیکورٹی کا مسئلہ نہیں ہے، غیر ملکیوں کے سفر پر پابندیاں ختم ہونی چاہیں، اگر سیاح آتے ہیں تو ہمیں سیاحت سے اتنی آمدنی ہوسکتی ہے جس سے نہ صرف مقامی حکومت کے اخراجات پورے ہوسکتے ہیں بلکہ لوگ بھی خوشحال ہوں گے‘۔

صرف پاکستانی شہری ہی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا بغیر روک ٹوک سفر کر سکتے ہیں جبکہ غیر ملکی شہریوں کو ان علاقوں میں سفر کرنے کے لیے پاکستان کی وزرات داخلہ کی طرف سے تحریری اجازت درکار ہوتی ہے۔ اجازت مل جانے کی صورت میں بھی غیر ملکیوں پر لازم ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول سے آٹھ کلومیٹر دور رہیں۔

اسلام آباد اور مظفرآباد میں اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتیں ہیں۔

وزیر برائے سیاحت عبدالسلام بٹ نے کہا کہ انھوں نے اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی قیادت سے بھی یہ معاملہ اٹھایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی اسلام آباد میں ان کی قیادت نے انھیں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس مسئلے کو جلدی حل کریں گے۔

عبدالسلام بٹ نے یہ مطالبہ ایک ایسے مرحلے پر کیا ہے جب مغربی ممالک نے حال ہی میں بائیس سال بعد اپنے شہریوں کو وادی کشمیر سفر کرنے کی اجازت دی ہے۔

سنہ انیس سو اٹھاسی میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مسلح تحریک کے آغاز کے بعد مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کے لیے ایک تنبیہ جاری کی تھی جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ سیکورٹی حالات کے پیشِ نظر بھارت کے زیر انتظام کشمیر کا سفر کرنے سے گریز کریں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے برعکس غیر ملکی سیاحوں کو لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف وادی کشمیر میں سفر کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

سیاحوں کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دلکشی کا سامان موجود ہے اور اگر سیاحت کی طرف توجہ دی جاتی ہے تو یہ اس غریب ریاست کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہوسکتی ہے جو فی الوقت ٹیکس یا حکومتِ پاکستان کی امداد پر انحصار کرتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔