بلوچستان: پنجگور میں ایک صحافی قتل

آخری وقت اشاعت:  اتوار 18 نومبر 2012 ,‭ 15:46 GMT 20:46 PST

اس سے پہلے بھی بلوچستان میں صحافیوں کے قتل کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر پنگجور میں نامعلوم افراد نے ایک نجی نشریاتی ادارے سے وابستہ صحافی رحمت اللہ عابد کو قتل کر دیا ہے۔

یہ واقعہ اتوار کی شام پنگجور کے بازار میں پیش آیا۔ پنگجور دارالحکومت کوئٹہ سے چھ سو کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ رحمت اللہ عابد ایک حجام کی دکان پر بیٹھے ہوئے تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کی۔

بلوچستان میں صحافیوں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ سنہ دو ہزار پانچ سے جاری ہے تاہم گزشتہ چند سالوں میں اس میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر محمد عیسیٰ ترین کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار سے بلوچستان میں اب تک اٹھارہ صحافی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔

پاکستان کی کئی سیاسی جماعتوں اور صحافتی تنظیموں نے واقعے کی مذمت کی ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا علاقہ خصدار صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا ہے جہاں پریس کلب کے دو صدور اور ایک جنرل سکریٹری سمیت پانچ صحافی ہلاک کیے گئے ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی خضدار کے موجودہ صدر کے دو بیٹوں کو قتل کیا گیا تھا۔ صحافی تنظیموں کے مطابق تاحال بلوچستان میں صحافیوں کے قتل میں ملوث کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا اور نہ ہی تحقیقات میں کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔

عیسیٰ ترین کے مطابق بلوچستان میں صحافی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

وزیرِ اعلی بلوچستان نے بھی صحافی رحمت اللہ عابد کے قتل کا نوٹس لیا ہے اور ڈپٹی کمشنر پنجگور سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔