ڈی ایٹ کمیشن اجلاس، کرنسی سوئیپ ایجنڈے پر

آخری وقت اشاعت:  پير 19 نومبر 2012 ,‭ 16:32 GMT 21:32 PST

ڈی ایٹ کا کوئی بھی معاہدہ اب تک نافذ العمل نہیں ہوا ہے: تجزیہ کار

آٹھ ترقی پذیر ممالک کی تنظیم ڈی ایٹ کا سربراہی اجلاس پاکستان میں منعقد ہو رہا جس کا مقصد رکن ممالک میں تجارتی تعاون اور کرنسی سوئیپ کو فروغ دینا ہے۔

اس تنظیم میں مشرقِ بعید سے لے کر افریقہ تک کے مسلم ممالک شامل ہیں جن میں پاکستان کے علاوہ ترکی، نائجیریا، مصر، ایران، بنگلہ دیش، ملائیشیا اور انڈونیشیا ہیں۔

ترقی پذیر ممالک کی اس تنظیم کو سنہ انیس سو ستانوے میں تشکیل دینے کا سہرا ترکی کے سر ہے جس کا مقصد تجارتی تعلقات اور امن کو ترجیح دینا تھا۔

تاہم پاکستانی معیشت پر نظر رکھنے والے ایک تجزیہ کار خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ ڈی ایٹ کا کوئی بھی معاہدہ اب تک نافذ العمل نہیں ہوا ہے۔

دنیا بھر میں تجارتی کرنسی امریکی ڈالر ہے تاہم کئی ممالک نے ڈالر پر انحصار ختم کر کے دو طرفہ کرنسی کو تجارت کی بنیاد بنایا ہے جسے کرنسی سوئیپ کہا جاتا ہے۔ ڈی ایٹ کا ایک مقصد کرنسی سوئیپ بھی ہے۔

وفاقی ایوان ہائے تجارت و صنعت کے نائب صدر شکیل ڈنگرا کا کہنا ہے کہ ترکی کے ساتھ پاکستان کا کرنسی سوئیپ پر معاہدہ ہوگیا ہے جبکہ ایران اور انڈونیشیاء سے اس معاملے پر بات چیت جاری ہے۔

ان کے بقول ایران کے ساتھ کرنسی سوئیپ کے معاملے پر بات چیت آخری مراحل میں ہے اور عنقریب معاہدہ پر دستخط متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر جو بھی پابندیاں ہیں وہ اپنی جگہ لیکن ایران کے ساتھ جو معاہدہ ہوگا وہ طویل مدتی ہوگا۔

شکیل ڈنگرا کے بقول ’جہاں تک پابندیوں کا تعلق ہے تو وہ ڈالر اور یورو پر لاگو ہوتی ہیں، جب آپ ان کو ادائیگیاں ہی پاکستانی روپے میں کر رہے ہیں تو پھر ان پر پابندیوں کا اطلاق بھی نہیں ہوتا۔‘

معدنیات اور ٹیکسٹائل کے ایک بڑے تاجر اور کراچی ایوان ہائے صنعت و تجارت کے سابق صدر مجید عزیز کا خیال ہے کہ ڈی ایٹ ممالک جب تک اپنا قبلہ درست نہیں کریں گے اس وقت تک تجارت پر بات ہی نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ایران پر اقوامِ متحدہ اور امریکہ کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں جس کے باعث ڈی ایٹ کے رکن ممالک بھی متاثر ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایران کے ساتھ کسی بھی کرنسی میں کاروبار نہیں کر سکتے۔ مجید عزیز کا کہنا تھا کہ اب تک مصر اور نائجیریا سے بھی پاکستان کا تجارتی حجم یا سرمایہ کاری اس حد تک نہیں پہنچ سکی ہے جہاں اُسے ہونا چاہیے تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔