اہم شخصیات کی سکیورٹی، فوج کے ذمے ہوگی

آخری وقت اشاعت:  پير 19 نومبر 2012 ,‭ 13:45 GMT 18:45 PST

بہت کم موقعوں پر فوج کو پاکستان کے دورے پر آئی ہوئیں غیر ملکی شخصیات کی حفاظت کی ذمہ داری دی جاتی ہے

وفاقی حکومت نے بائیس نومبر کو پاکستان میں ہونے والی ڈی ایٹ کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے سربراہان مملکت، سربراہان حکومت اور اُن کی نمائندگی کرنے والے افراد کی سکیورٹی کی ذمہ داری پاکستانی فوج کو دے دی ہے۔

اس کانفرنس کے شرکاء اکیس نومبر کو اسلام آباد پہنچیں گے۔ ان کی نگرانی کے لیے تعینات کی جانے والی پولیس فورس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، علاقے میں تعینات فوجی افسر کی نگرانی میں ہوں گے۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے وفود کی سکیورٹی کی نگرانی بھی پاکستانی فوج کے افسران کریں گے۔

ڈی ایٹ کانفرنس کے آٹھویں اجلاس میں مصر کے صدر محمد مُرسی، ایران کے صدر محمود احمدی نژاد، انڈونیشا کے صدر سوسیلو بمبانگ یودو نو، نائجیریا کے صدر گُڈلک اپیلے جوناتھن، ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان کے علاوہ ملائشیا کے نائب وزیر اعظم جبکہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ کی شرکت متوقع ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق ان ممالک کے سربراہان مملکت اور اُن کی نمائندگی کرنے والے افراد کی پاکستان میں آمد سے لے کر اُن کے اپنے اپنے ملک روانگی تک کی ذمہ داری فوج کو دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وزارت داخلہ میں ایک مانیٹرنگ سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو سکیورٹی کے امور کی نگرانی کرے گا۔

موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی سربراہان مملکت ایک ہی وقت میں پاکستان میں موجود ہوں گے۔ جمہوری دور میں بہت کم موقعوں پر فوج کو پاکستان کے دورے پر آئی ہوئیں غیر ملکی شخصیات کی حفاظت کی ذمہ داری دی جاتی ہے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی پاکستان آمد کے موقع پر اُن کی سکیورٹی میں ٹین کور سے فوجی افسران کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔

ان سربراہان مملکت اور سربراہان حکومت کے پاکستان میں قیام کی تفصیلات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے تاہم ذرائع کے مطابق ان غیر ملکی شخصیات کو فائیو سٹار ہوٹلوں، ایوان صدر اور پنجاب ہاؤس میں رکھا جائے گا اور ان جگہوں کے کمرے ان شخصیات اور وفد میں شامل افراد کے لیے خالی کروا لیے گئے ہیں۔

دوسری جانب وزارت داخلہ اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ان غیر ملکی شخصیات کی حفاظت کے لیے پنجاب پولیس سے نفری مانگی ہے تاہم اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق پنجاب حکومت نے اس درخواست کا ابھی تک جواب نہیں دیا۔ پنجاب پولیس کے مطابق اس وقت پندرہ ہزار سے زائد پولیس اہلکار مختلف شہروں میں محرم الحرام کی ڈیوٹیاں دے رہے ہیں۔

اس کانفرنس کے موقع پر جڑواں شہروں اور اس کے گرد و نواح میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ شہر کے سرکلز میں تعینات پولیس افسران کو اپنے اپنے علاقوں کو سرچ آپریشن جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ریڈ زون کے علاقے میں زیر تعمیر عمارتوں پر تعمیراتی کام روک دیا گیا ہے۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ لاجز کے علاوہ ڈپلومیٹک انکلیو میں کچھ نجی عمارتوں اور مختلف سفارت خانوں کی تعمیر کا کام جاری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔