نقشہ سازی: قومی ادارے کی تشکیل کی کوشش

آخری وقت اشاعت:  پير 19 نومبر 2012 ,‭ 17:51 GMT 22:51 PST

پاکستان میں اقوام متحدہ کے بعض اداروں سمیت کچھ تنظیموں نے خود ہی پاکستان میں نقشاجات بنانے کا کام شروع کر رکھا ہے

پاکستان کی حکومت نے دفاعی اداروں کی خواہش پر قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر فوج کے ادارے ’نیشنل سروے آف پاکستان‘ کو ’نیشنل میپنگ ایجنسی‘ بنانے کے لیے فوری قانون سازی کی منظوری دے دی ہے۔

یہ منظوری کابینہ کے گذشتہ بدھ منعقد ہونے والے اجلاس میں وزارتِ دفاع کی جانب سے پیش کردہ خلاصے پر دی گئی اور وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ’لینڈ سروینگ اینڈ میپنگ بل سنہ دو ہزار بارہ ‘ پارلیمان کے کسی بھی ایوان میں پیش کیا جائے۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ پاکستان میں اقوام متحدہ کے بعض اداروں سمیت کچھ تنظیموں نے خود ہی پاکستان میں نقشہ جات بنانے کا کام شروع کر رکھا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ غیر پیشہ ورانہ ادارے ہیں اور ایک طرف جہاں غیر معیاری نقشے تیار کرتے ہیں وہاں حساس علاقوں کے غیر قانونی طور پر نقشے بناتے ہیں۔

پاکستان میں اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے اور ان کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ اسی لیے ایسی تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ وزارتِ دفاع کا مزید کہنا ہے کہ آسٹریلیا، چین، بھارت، ترکی، امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے اس بارے میں قانون سازی کر رکھی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں بھی قانون بنایا جائے۔

بی بی سی کو ملنے والی سرکاری دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے اس بارے میں رواں سال گیارہ جنوری کو دفاع، داخلہ اور پیٹرولیم کی وزارتوں کے سیکریٹریز کو ہدایت کی تھی کہ وہ آپس میں مشاورت کریں کہ ’سروے آف پاکستان‘ اور ’جیالوجیکل سرورے آف پاکستان‘ میں سے کون سا ادارہ نقشوں کی تیاری اور سروے کے معاملات کی نگرانی کرے۔

کابینہ کو وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ’سروے آف پاکستان‘ ایک قومی ادارے کےطور پر یہ کام سرانجام دے گا۔

حکومتی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سروے آف پاکستان‘ فوج کا ایک ادارہ ہے جبکہ ’جیولاجیکل سروے‘ ایک سویلین ادارہ ہے اور دونوں میں شروع میں اختلاف تھا۔ لیکن کئی ماہ کی تفصیلی بحث کے بعد یہ طے پایا کہ غیر قانونی سروے اور نقشے تیار کرنے کے کام کی نگرانی فوج کے ادارے کو دی جائے۔

پاکستان کے دفاعی اداروں کو شکایت ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے ’اوچا‘ اور ’ورلڈ فوڈ پروگرام‘ کے پاس ’جاگرافک انفرمیشن سیسٹم‘ یعنی ’جی آئی ایس‘ موجود ہے اور سنہ دو ہزار دس کے سیلاب کے بعد سے وہ اُسے استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کے چیئرمین ظفر قادر نے پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور مختلف متعلقہ محکموں کو خط لکھ کر کہا تھا کہ ’انفارمیشن منیجمینٹ اینڈ مائن ایکشن پروگرام‘ یعنی ’آئی ایم ایم اے پی‘ غیر قانونی طور پر پاکستان میں چل رہا ہے اس کا نوٹس لیا جائے۔ ان کے بقول یہ پروگرام اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے ’اوچا‘ کے ساتھ چل رہا ہے۔

ظفر قادر نے متعلقہ حکام کو یہ بھی لکھا ہے کہ حساس علاقوں کے سروے اور نقشے بنانے کی غیر قانونی سرگرمیوں سے ملکی مفادات اور قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے’اوچا‘ کے ترجمان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ دستیاب نہیں ہوسکے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔