گیلانی اقدامات: قانونی تحفظ کے لیے توثیق بل منظور

آخری وقت اشاعت:  پير 19 نومبر 2012 ,‭ 16:17 GMT 21:17 PST

پاکستان کی قومی اسمبلی نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اقدامات کو قانونی تحفظ دینے کے توثیق بل 2012 کو کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔

یہ بل وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے پیش کیا۔

اس بل کے تحت سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے چھبیس اپریل سے انیس جون تک جتنے اقدامات کیے تھے ان کو قانونی تحفظ فراہم ہو گا۔

اس مدت کے دوران وزارتِ اعظمٰی کے اہم اقدامات میں بجٹ کے علاوہ اعلٰی عدالتوں کے چند ججوں کی تقرری بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ دو فروری کو سپریم کورٹ نے این آر او عملدرآمد کیس میں یوسف رضا گیلانی پر فرد جرم عائد کیا تھا۔

چھبیس اپریل کو سپریم کورٹ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو قومی مصالحتی آرڈینینس یعنی این آر او پر عملدرآمد سے متعلق مقدمے میں عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنے اور توہین عدالت کا مرتکب ہونے پر سزا سنائی تھی۔ سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو تیس سیکنڈ کی علامتی سزا سنائی تھی۔

انیس جون کو سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے عہدے سے یوسف رضا گیلانی کو چھبیس اپریل سے نا اہل قرار دے دیا تھا۔

چوبیس جون کو پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کی حکومت کے چھبیس اپریل سے انیس جون تک کے اقدامات کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کے لیے آرڈیننس جاری کر دیا تھا۔

یہ آرڈنینس تیئس جون کی شب کو جاری کیا گیا تھا۔

عدالت نے انیس جون کو دیے گئے اپنے فیصلے میں وزیرِاعظم کی نااہلی کی مدت کا آغاز چھبیس اپریل سے کیا جس کی وجہ سے اس صدارتی آرڈنینس کی ضروت پیش آئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔