موٹرسائیکل سواری: پابندی کے لیے نظرثانی درخواست

آخری وقت اشاعت:  پير 19 نومبر 2012 ,‭ 14:54 GMT 19:54 PST

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے کراچی میں دس روز کے لیے موٹر سائیکل کی سواری پر پابندی عائد کرنے کے بارے میں ہائی کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کی ہے۔

حکومت سندھ نے نظرثانی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ دہشت گردی اور فرقہ واریت کے واقعات میں زیادہ تر موٹر سائیکل استعمال کی جاتی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں یہ نظرثانی درخواست سندھ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ وسیم احمد نے دائر کی ہے۔

حکومتِ سندھ نے درخواست میں کہا ہے کہ انٹیلیجنس اطلاعات کے مطابق محرم الحرام میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کی کارروائیوں کا خدشہ ہے اور ان کارروائیوں کے لیے موٹر سائیکل استعمال ہو سکتے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ماتمی جلوسوں، مجالس اور اہم شخصیات کے خلاف دہشت گردی کے خدشات ہیں۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ اتوار کے روز کراچی کے علاقے عباس ٹاؤن میں امام بارگاہ کے باہر دھماکے میں بھی موٹر سائیکل استعمال کی گئی تھی۔ اور یہ کارروائی انہی معلومات کی ایک کڑی ہے۔

"تمام امام بارگاہوں کے ایک کلومیٹر تک گاڑیوں کا داخلہ ممنوع ہو گا جبکہ موٹر سائیکل آدھے کلومیٹر سے آگے آنے کا اجازت نہیں ہو گی۔ کوشش کی جائے گی کہ موبائل سروس کو کم سے کم معطل کیا جائے۔ "

رحمان ملک

دوسری جانب سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دس محرم تک سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا تمام امام بارگاہوں کے ایک کلومیٹر تک گاڑیوں کا داخلہ ممنوع ہو گا جبکہ موٹر سائیکل آدھے کلومیٹر سے آگے آنے کا اجازت نہیں ہو گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوشش کی جائے گی کہ موبائل سروس کو کم سے کم معطل کیا جائے۔

واضح رہے کہ سولہ نومبر کو وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کراچی اور کوئٹہ میں موٹر سائیکل سواری پر پابندی لگائی تھی۔ تاہم سندھ ہائی کورٹ نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں حکومت کی جانب سے موٹرسائیکل سواری پر پابندی کے خلاف درخواست پر اس پابندی کو منسوخ کر دیا تھا۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے سینٹ کے اجلاس میں بتایا تھا کہ کوئٹہ اور کراچی میں موٹر سائیکل سواری پر پابندی خفیہ اداروں کی اطلاع پر لگائی گئی تھی۔

اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس اعداد و شمار ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ موٹر سائیکل دہشت گردی کے لیے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دو ہزار گیارہ میں پنجاب میں اٹھائیس، سندھ میں ایک سو تین، خیبر پختونخوا میں اٹھاسی، بلوچستان میں دو سو چار، اسلام آباد میں تین اور فاٹا میں ایک دہشت گردی کے واقعات موٹر سائیکل سواروں کے ذریعے ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کو آئین کی دفعہ ایک سو اڑتالیس کے تحت ان حالات میں اقدامات کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔