سینئر صحافی شفقت تنویر مرزا انتقال کر گئے

آخری وقت اشاعت:  بدھ 21 نومبر 2012 ,‭ 23:09 GMT 04:09 PST

سینئر صحافی شفقت تنویر مرزا انتقال کر گئے

سینئر صحافی ،محقق اور حقوق انسانی کے کارکن شفقت تنویر مرزا انتقال گرگئے۔ ان کی عمر بیاسی برس تھی اور وہ گزشتہ ایک برس سے پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا تھے۔

شفقت تنویر مرزا کو لاہور میں منگل کی شام مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

شفقت تنویر مرزا گزشتہ ایک ہفتے سے ایک مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھےجہاں منگل کی صبح وہ انتقال کرگئے۔انہوں نے اپنے پسماندگان میں بیوہ اور ایک بیٹی سوگوار چھوڑی ہیں۔

شفقت تنویر مرزا انیس سو بتیس میں پنجاب کے شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے صحافت کے سفر کا آغاز انیس سو انچاس میں اردو روزنامہ تعمیر راولپنڈی سے کیا اور بعد میں وہ روزنامہ ہلال سے وابستہ ہوگئے۔

شفقت تنویر مرزا انیس سو بتیس میں پنجاب کے شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے صحافت کے سفر کا آغاز انیس سو انچاس میں اردو روزنامہ تعمیر راولپنڈی سے کیا اور بعد میں وہ روزنامہ ہلال سے وابستہ ہوگئے

شفقت تنویر مرزا نے دو سال ریڈیو پاکستان میں بھی کام کیا لیکن جنرل ایوب خان کے دور میں انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا۔انگریزی روزنامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ کی بندش کے بعد انہوں نے روزنامہ امرزور میں ملازمت اختیار کرلی تاہم جنرل یحیْٰ خان کے دور میں انہیں روزنامہ امرزور سےبھی الگ ہونا پڑا۔

شفقت مزرا نے حنیف رامے اور منوبھائی کے ساتھ مل کر روزنامہ مساوات شروع کیا لیکن انیس سو تراسی میں وہ دوبارہ امرزور سے واسبتہ ہوگئے تاہم جنرل ضیاء الحق کی پالیسیوں کی مخالفت کی پاداش میں انہیں نوکری سے نکال دیا گیا اور انہوں نے دو سال قید بھی کاٹی۔

انہوں نے ضیاء الحق کی آمریت کے دوران انگریزی ہفت روزہ ویو پوائنٹ کے لیے بھی کام کیا۔

سنئیر صحافی اور دانشور آئی اے رحمان کا کہنا ہے کہ شفقت تنویر مرزا ایک دیانت دار صحافی تھے اور انہوں نے صحافتی اقدار پر کبھی کو ئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

آئی اے رحمان کے بقول ہمیشہ بغیر کسی ڈر کے حق کی حمایت کرنا شفقت تنویر مرزا کا وطیرہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے اور نہ ہی کام سے منہ موڑتے تھے اور انہوں نے عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزری۔

شفقت مزرا نے حنیف رامے اور منوبھائی کے ساتھ مل کر روزنامہ مساوات شروع کیا لیکن انیس سو تراسی میں وہ دوبارہ امرزور سے واسبتہ ہوگئے تاہم جنرل ضیاء الحق کی پالیسیوں کی مخالفت کی پاداش میں انہیں نوکری سے نکال دیا گیا اور انہوں نے دو سال قید بھی کاٹی

صحافی تنظیم کے سابق عہدیدار راجہ ارونگ زیب نے بتایا کہ ضیاء الحق کی آمریت کے دوران صحافی ثنار عثمانی کے کہنے پر شفقت تنویر مرزا نے پنجاب یونین آف جرنلسٹ کے صدر کا عہدہ سبنھالا اور صحافیوں کے حقوق اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کی جس کی پاداش میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

راجہ اورنگ زیب نے بتایا کہ ضیاء الحق کی وجہ سے کوئی اخبار انہیں ملازمت دینے کے لیے تیار نہیں تھا لیکن وہ اس کے باوجود اپنے موقف پر قائم رہے اور سرنڈر نہیں کیا۔

جمہوریت اور صحافیوں کے حقوق کی جدوجہد کےدوران شفقت تنویر مرزا کو دو برس تک پابند سلاسل بھی رہنا پڑا اور وہ کراچی ، لاہور اور بہاولپور کی جیلوں میں قید رہے۔

کراچی میں ان کے ساتھ قید سینئر صحافی محمود زمان نے بتایاکہ جیل میں صحافیوں نے بھوک ہڑتال شروع کی تو وہ اس کمیٹی کے سربراہ چنے گئے جو بھوک ہڑتال کی نگرانی کررہی تھی۔

محمود زمان کے مطابق انہوں نے فہرست تیار کی کہ کونسے دن کونسا صحافی بھوک ہڑتال کرے اور ان کو اس صحافی کی صحت کی فکر ہوتی اور وہ ہڑتال ختم ہونے کے بعد کئی دن تک اس صحافی کی خیریت دریافت کرتے تھے۔

پنجابی کے معروف محقق اور ادیب مسعود ثاقب کا کہنا ہے کہ شفقت تنویر مرزا نے پنجابی زبان کے لیے بہت کام کیا اور آج پنجابی زبان جس حالت میں موجود ہے اس میں شفقت تنویر مرزا کابڑا کردار ہے کیونکہ انہوں نے پنجاب کی زبان و ادب کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک پوری تحریک چلائی تھی۔

مسعود ثاقب کے بقول شفقت تنویر مرزا نے پنجابی زبان کے حوالے سے لوگوں میں آگاہی پیدا کی اور پنجابی سے لوگوں کا رشتہ جوڑا۔

شفقت تنویرمرزا نے پچاس اقساط پر مبنی ایک پنجابی دستاویزی سیریل ْ ْ لوک ریت ْ ْ بھی بنائی ۔ حکومت پاکستان نے پنجابی زبان اور صحافتی خدمات کے اعتراف میں انہیں دو ہزار چھ میں تمغنہ حسن کارکردگی سے بھی نواز تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔