ممبئی حملہ:’سزا کے لیے درکار شواہد موجود‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 21 نومبر 2012 ,‭ 17:28 GMT 22:28 PST

ممبئی حملہ سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گُزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران سات افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پاکستان میں ممبئی حملہ سازش کیس میں سرکاری وکیل کے مطابق استغاثہ کے پاس اتنے شواہد موجود ہیں جن کی بنا پر گرفتار ہونے والے افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکتی ہے۔

ممبئی حملہ سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گُزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران سات افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں ذکی الرحمنٰ لکھوی کے علاوہ شاہد جمیل ریاض، مظہر اقبال، حماد امین صادق، عبدالواحد، جمیل احمد اور یونس انجم شامل ہیں۔ ان افراد کے خلاف مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا اور ان پر فرد جُرم بھی عائد کی جا چکی ہے۔ ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہے۔

اس کے علاوہ اُنیس افراد کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے جن میں سرکاری وکیل کے بقول اکثریت کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے ہے اور یہ افراد ممبئی حملہ کرنے والے افراد کے سہولت کار تھے۔ اس مقدمے کی آئندہ سماعت یکم دسمبر کو ہوگی۔

اس مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کی حکومت سے کہا ہے کہ ممبئی حملہ سازش کیس کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پاکستانی کمیشن کو بھارت بُلانے سے متعلق جلد فیصلہ کرے تاکہ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکے تاہم بھارت کی جانب سے ابھی تک جواب نہیں آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عدالتی کمیشن کو بھارت جانے کی اجازت نہ بھی دی گئی تو اس کے باوجود استغاثہ کے پاس اتنے شواہد موجود ہیں جن کی بنا پر گرفتار ہونے والے افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکتی ہے۔

چوہدری ذوالفقار کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے متعقلہ عدالت میں اس مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے سے متعلق درخواست دی ہے جس پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ گُزشتہ ساڑھے تین سال سے زائد عرصے کے دوران اس مقدمے کی سماعت کرنے والے پانچ جج تبدیل ہو چکے ہیں اور ابھی تک اس مقدمے میں صرف پندرہ افراد کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں جبکہ استغاثہ کی جانب سے پینتالیس گواہوں کی فہرست عدالت میں پیش کی گئی ہے جس میں زیادہ تعداد سرکاری ملازمین کی ہے۔

اس سے پہلے بھی پاکستان کا ایک عدالتی کمیشن اسی سال بھارت گیا تھا جہاں پر اُنہوں نے ممبئی حملوں کی تحققیات اور اس مقدمے کی کارروائی سے جڑے چار افراد کے بیانات قلمبند کیے تھے۔ ان افراد میں وہ جوڈیشل مجسٹریٹ بھی شامل ہیں جنہوں نے ممبئی حملوں کے مقدمے میں واحد زندہ بچ جانے والے مجرم اجمل قصاب کا اقبالی بیان ریکارڈ کیا تھا۔

ملزمان کا فائدہ

"اس مقدمے میں جتنی تاخیر ہوگی اُس کا فائدہ ملزمان کو ہی ہوگا۔حکومت کو اس مقدمے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے دستیاب شواہد کو عدالت میں پیش کرنا چاہیے"

سردار اسحاق

وطن واپس آنے کے بعد پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس کمیشن کی رپورٹ کو یہ کہہ کر عدالتی کارروائی کا حصہ بنانے سے انکار کر دیا کہ کمیشن نے ان چار بھارتیوں کے بیانات کے تناظر میں اُن پر جرح نہیں کی تھی۔

ممبئی حملہ سازش کیس کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزم جمیل احمد کے وکیل الیاس صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ گواہان پر جرح کرنا ملزم پارٹی کا حق ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ چار بھارتی اہلکاروں پر جرح کی اجازت نہ دینے پر بھارت نے اس مقدمے کی کارروائی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے۔

اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ ابھی تک استغاثہ ایسے شواہد عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہا ہے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ اس مقدمے میں گرفتار افراد قصور وار ہیں۔

فوجداری مقدمات کے ماہر وکیل سردار اسحاق کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں جتنی تاخیر ہوگی اُس کا فائدہ ملزمان کو ہی ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو اس مقدمے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے دستیاب شواہد کو عدالت میں پیش کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ چھبیس نومبر سنہ دو ہزار آٹھ میں بھارت کے شہر ممبئی میں حملوں کے واقع میں گرفتار ہونے والے پاکستانی شہری اجمل قصاب کے خلاف بھارت عدالت میں اس مقدمے کی سماعت ہوئی اور پھر تمام کارروائی مکمل ہونے کے بعد اکیس نومبر دو ہزار بارہ کو اجمل قصاب کو پھانسی دے دی گئی۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس کے برعکس انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیے جانے والا ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کا مقدمہ منطقی انجام تک پہنچانے میں اتنی تاخیر اس قانون اور عدالتی استعداد کار پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمے کا فیصلہ ایک ماہ میں ہونا ضروری ہوتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔