ڈی ایٹ سمٹ: ’پاکستان کے لیے نادر موقع‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 22 نومبر 2012 ,‭ 10:34 GMT 15:34 PST

ڈی ایٹ میں مصر، ایران، بنگلادیش، انڈونیشیا، ملائشیا، نائیجیریا، ترکی اور پاکستان شامل ہیں

دنیا کے آبادی کے لحاظ سے آٹھ بڑے اسلامی ممالک کی تنظیم ڈی ایٹ کے سربراہان مملکت و حکومت کا اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں شروع ہوگیا ہے اور امکان ہے کہ اسلام آباد ڈیکلیریشن کی منظوری دی جائے گی۔

نائیجیریا کے صدر نے اجلاس کا اففتاح کیا اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے ڈی ایٹ سمٹ کے شرکا کا خیر مقدم کیا۔ تنظیم کی سربراہی اب پاکستان کو سونپ دی گئی ہے۔

اجلاس میں ایران کے صدر محمود احمدی نژاد، انڈونیشیا کے صدر سسیلو یودھویونو بیمبینگ، نائیجیریا گڈ لک جوناتھن ، ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوگان، ملائیشیا کے نائب وزیراعظم اور بنگلادیش کے وزیراعظم کے مشیر شرکت کر رہے ہیں۔

اس اجلاس میں مصری صدر محمد مرسی نے بھی شرکت کرنی تھی تاہم ذاتی وجوہات کی بنا پر انھیں عین وقت پر اپنا دورہ ملتوی کرنا پڑا۔

ڈی ایٹ کے کمیشن کا اجلاس انیس اور بیس نومبر کو ہوا، اکیس نومبر کو وزراء خارجہ نے اجلاس کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی اور آج سربراہان مملکت اور حکومت ڈیکلیئریشن کی منظوری دیں گے۔

حکام کے مطابق ایک ارب آبادی والے ان آٹھ ممالک میں سنہ دو ہزار اٹھارہ تک باہمی تجارتی حجم کو پانچ سو ارب ڈالر کرنا ہے۔ ڈی ایٹ میں مصر، ایران، بنگلادیش، انڈونیشیا، ملائشیا، نائیجیریا، ترکی اور پاکستان شامل ہیں۔

یہ تنظیم پندرہ برس قبل ترکی کی تجویز پر قائم کی گئی تاکہ بڑی آبادی والے اسلامی ممالک آپس میں تجارت کے فروغ سے فائدہ حاصل کریں۔ آٹھوں ممالک کی مجموعی آبادی ایک ارب ہے اور مشترکہ منڈی دس کھرب ڈالر کی ہے۔ لیکن بعض مبصرین کہتے ہیں کہ اب تک جتنا فائدہ اٹھانا چاہیے تھا وہ نہیں اٹھایا جاسکا اور ترکی اور ملائشیا نے اس فورم سے دیگر کی نسبت کچھ زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، منافع کی شرح زیادہ ہونے کی وجہ سے موجود ہیں اور پاکستان سرمایہ کاروں کو مراعات دے کر بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

"یہ پہلا موقع ہے کہ تمام ممالک کے سرمایہ کاروں کے وفود بھی آئے ہوئے ہیں اور نجی شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری کے علاوہ یہ ممالک ایک دوسرے کی ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔ "

سابق وزیرِ خزانہ و اقتصادی امور، سرتاج عزیز

ایسی ہی رائے پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش رئیس کی ہے جو کہتے ہیں کہ یہ سمٹ پاکستان کے لیے فائدہ اٹھانے کا اچھا موقع ہے۔ ان کے بقول پاکستان نے گزشتہ پندرہ برسوں میں ترکی اور ملائشیا سے تجارتی تعلقات وسیع کیے ہیں اور انہیں دیگر ممالک کی منڈیوں تک بھی رسائی حاصل کرنی ہوگی۔

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اور اقتصادی امور سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ یہ پہلا موقع ہے کہ تمام ممالک کے سرمایہ کاروں کے وفود بھی آئے ہوئے ہیں اور نجی شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری کے علاوہ یہ ممالک ایک دوسرے کی ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔ سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ ’پاکستان قریبی ممالک میں پھل، سبزیاں، فشریز اور انفرمیشن ٹیکنالوجی برآمد کرسکتا ہے اور اپنی خدمات سے استفادہ کرسکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں اقتصادی صورتحال ابتر ہونے کی وجہ سے اسلامی ممالک میں زیادہ مواقع موجود ہیں اور پاکستان کے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ فائدہ اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ادائیگیوں کے طریقہ کار، کریڈٹ فنانسنگ، انفرا اسٹرکچر، شپنگ اور کمیونیکشن کے ذرائع کو بہتر بنانا ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک ارب آبادی والے آٹھ ممالک میں سنہ دو ہزار اٹھارہ تک پانچ سو ارب ڈالر تک اندرونی تجارت کو بڑھانا ایک بڑا ہدف ہے لیکن فوری اور سنجیدہ کوششوں سے اُسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

’ڈی ایٹ کے سات ممالک کے ساتھ پاکستان کے سالانہ تجارت کے حجم کا مجھے معلوم نہیں لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ ڈھائی ارب ڈالر تک ہوسکتا ہے اور اگر پاکستان اُسے دوگنہ کردے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔‘

پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ ڈی ایٹ سمٹ سے پاکستان کے نجی شعبے کو تقویت ملے گی اور انہیں اپنی اشیاء کے لیے نئی منڈیاں ملیں گی۔ ان کے بقول پاکستان کو چاہیے کہ وہ دو طرفہ تعلقات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معاہدے کرے تاکہ مشترکہ اور دو طرفہ پلیٹ فارم سے پاکستان کو فائدہ اٹھانے کے آپشن مہیا ہوں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔