ڈی ایٹ۔خواب اور حقیقت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 22 نومبر 2012 ,‭ 15:01 GMT 20:01 PST
راجہ اشرف پرویز اور طیب اردگان

ترکی کے وزیرِ اعظم نے ڈی ایٹ میں اپنے ملک کی نمائندگی کی

اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ڈی ایٹ سربراہ کانفرنس کو پونی سربراہ کانفرنس کہنا غلط نا ہوگا۔ کیونکہ آٹھ میں سے تین ممالک یعنی ملیشیا کے وزیرِ اعظم کے بجائے نائب وزیرِ اعظم، بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم کے بجائے انکے مشیرِ خارجہ نے اپنے اپنے ملک کی نمائندگی کی۔ جبکہ مصر کے صدر محمد مرسی نے غالباً غزہ کے بحران کے سبب عین وقت پر ملک چھوڑنا مناسب نا سمجھا۔

وجہ کوئی بھی ہو لیکن ان تینوں ممالک کی اسلام آباد میں اعلی سطحی نمائندگی نا ہونا پاکستان کے لئے یوں معنی خیز ہے ۔ کیونکہ ملیشیا ڈی ایٹ میں شامل وہ ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کی سب سے زیادہ ( تقریباً تین ارب ڈالر ) تجارت ہے ۔ ملیشیا ڈی ایٹ کا واحد ملک ہے جو دو طرفہ تجارت کرنے والے دس چوٹی کے ممالک کی پاکستانی فہرست میں شامل ہے۔

جبکہ بنگلہ دیش ڈی ایٹ کا واحد ملک ہے جس کے ساتھ تجارت کا توازن پاکستان کے حق میں ہے اور پاکستانی ٹیکسٹائیل کی سب سے زیادہ سرمایہ کاری بنگلہ دیش ہی میں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں لوڈ شیڈنگ اور امن و امان کے حالات کے سبب لگ بھگ چالیس فیصد ٹیکسٹائیل صنعت بنگلہ دیش منتقل ہو چکی ہے تاکہ بنگلہ دیش کو سینتیس ممالک میں ڈیوٹی فری ٹیکسٹائل کوٹہ فروخت کرنے کی جو سہولت حاصل ہے اس سے پاکستانی سرمایہ کار بھی مستفید ہو سکیں۔وہ دوسری بات ہے کہ پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بنگلہ دیش منتقلی کے جاری عمل سے اب تک صوبہِ پنجاب میں ساٹھ ہزار سے زائد مقامی ٹیکسٹائل ورکرز اور اس صنعت سے بلاواسطہ منسلک دو لاکھ خاندان معاشی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔

اور مصر کی اعلی سطحی نمائندگی کی اس لحاظ سے ایک اہمیت بنتی تھی کہ مصری کمپنی اوریسکوم کا شمار پاکستان کے مواصلاتی سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ حالانکہ خود مصر میں پاکستان کی سرمایہ کاری نا ہونے کے برابر ہے۔

اگرچہ انڈونیشیا کے صدر نے ڈی ایٹ سربراہ اجلاس میں اپنے ملک کی نمائندگی کی لیکن پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین تجارت کا حجم محض ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر سالانہ ہے۔

"پندرہ برس قبل اس وقت کے ترک وزیرِ اعظم نجم الدین اربکان کے اس تصور کی بنیاد پر کہ یورپی یونین کی طرز پر مسلمان ممالک کا بھی ایک اقتصادی اتحاد ہونا چاہئیے ڈی ایٹ وجود میں آئی۔لیکن اس عرصے میں ڈی ایٹ ڈی نائن نا بن سکی اور باہمی تجارت کو آگے بڑھانے کا موثر مشترکہ پلیٹ فارم بھی ثابت نا ہو سکی۔اس وقت ڈی ایٹ ممالک کے درمیان جو تجارت ہو رہی ہے اس کی نوعیت زیادہ تر دو طرفہ ہے۔ڈی ایٹ نا بھی ہوتی تب بھی یہ دو طرفہ تجارت جاری رہتی۔ "

ترکی کے وزیرِ اعظم نے ڈی ایٹ میں اپنے ملک کی نمائندگی کی لیکن ترکی اور پاکستان کے مابین تجارت کا موجودہ حجم محض ایک ارب ڈالر سالانہ کے لگ بھگ ہے۔

ایران کے صدر نے اسلام آباد میں اپنے ملک کی نمائندگی کی مگر دو طرفہ تجارت دو سو ستر ملین ڈالر سے کم ہے۔ حالانکہ انڈونیشیا، ترکی اور ایران بیس بڑے عالمی تجارتی ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔

جبکہ ڈی ایٹ کے ایک رکن نائجیریا سے پاکستان کی تجارت ساٹھ ملین ڈالر سے بھی کم ہے حالانکہ آبادی اور تیل کی پیداوار کے لحاظ سے نائجیریا سب سے بڑا افریقی ملک اور جنوبی افریقہ کے بعد براعظم کی دوسری بڑی اقتصادی قوت ہے۔

اگرچہ ڈی ایٹ ممالک کی مجموعی آبادی ایک ارب چودہ کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ مسلمانوں کی ساٹھ فیصد عالمی آبادی ان آٹھ ممالک میں رہتی ہے۔ عالمی تجارت میں ڈی ایٹ ممالک کا حصہ چھ اعشاریہ سات فیصد کے لگ بھگ ہے۔ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اڑسٹھ ارب ڈالر سالانہ کی تجارت بھی ہوتی ہے۔ مگر اڑسٹھ بلین ڈالر کے اعداد سے بہت زیادہ خوش ہونے کی اس لیے ضرورت نہیں کیونکہ اس میں سے اسی فیصد تجارت چار ڈی ایٹ ممالک یعنی ملیشیا اور انڈونیشیا کے درمیان اور ترکی اور ایران کے درمیان ہے۔

پندرہ برس قبل اس وقت کے ترک وزیرِ اعظم نجم الدین اربکان کے اس تصور کی بنیاد پر کہ یورپی یونین کی طرز پر مسلمان ممالک کا بھی ایک اقتصادی اتحاد ہونا چاہئیے ڈی ایٹ وجود میں آئی۔لیکن اس عرصے میں ڈی ایٹ ڈی نائن نا بن سکی اور باہمی تجارت کو آگے بڑھانے کا موثر مشترکہ پلیٹ فارم بھی ثابت نا ہو سکی۔اس وقت ڈی ایٹ ممالک کے درمیان جو تجارت ہو رہی ہے اس کی نوعیت زیادہ تر دو طرفہ ہے۔ڈی ایٹ نا بھی ہوتی تب بھی یہ دو طرفہ تجارت جاری رہتی۔

بعض اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ ڈی ایٹ کا ایک موثر اقتصادی و تجارتی بلاک بننے میں متعدد رکاوٹیں ہیں۔جیسے نائجیریا، مصر، ترکی اور پاکستان کی یورپی یونین، امریکہ، چین اور بھارت کے ساتھ تجارت کا حجم اتنا ہے کہ اس کے بعد ان ممالک کے لیے ڈی ایٹ کا پلیٹ فارم محض رسمی اور علامتی رہ جاتا ہے۔

ڈی ایٹ ممالک میں صرف دو اقدار مشترک ہیں۔ترقی پذیری اور مسلمانیت۔ مگر اقتصادی تعلقات کی بنیاد محض مشترکہ عقیدہ نہیں بن سکتا ۔اقتصادیات صرف اور صرف طلب و رسد اور مناسب قیمت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

"ایران کی تجارت میں اس وقت چین اور بھارت کا کردار سب سے اہم ہے۔ سیاسی لحاظ سے ایران اور ترکی کے درمیان یا ایران اور پاکستان کے مابین کوئی خاص گاڑھی نہیں چھنتی۔ اس کا تازہ ثبوت شام کے بحران پر ترکی اور ایران کی بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ ڈی ایٹ میں شامل ہونے کے باوجود ایران اور پاکستان گیس پائپ لائن کی سست رفتاری تیزی میں نا بدل سکی۔ جبکہ خلیجی ممالک سے پاکستان کے مخصوص تعلقات پاک ایران تعلقات میں سرد مہری یا گرمجوشی کم زیادہ کرتے رہتے ہیں۔ "

ڈی ایٹ ممالک کے سیاسی رحجانات بھی مشترکہ نہیں ہیں۔جیسے نائجیریا کی دلچسپی کا بنیادی محور براعظم افریقہ اور افریقی اتحاد کی تنظیم ( او اے یو ) ہے۔

مصر کی سیاسی دلچسپی عرب دنیا سے باہر بہت ہی کم اور اقتصادی دلچسپی یورپی یونین سے زیادہ ہے۔

ملیشیا اور انڈونیشیا کی دلچسپی کا بنیادی محور آسیان ہے۔

ایران کی تجارت میں اس وقت چین اور بھارت کا کردار سب سے اہم ہے۔ سیاسی لحاظ سے ایران اور ترکی کے درمیان یا ایران اور پاکستان کے مابین کوئی خاص گاڑھی نہیں چھنتی۔ اس کا تازہ ثبوت شام کے بحران پر ترکی اور ایران کی بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ ڈی ایٹ میں شامل ہونے کے باوجود ایران اور پاکستان گیس پائپ لائن کی سست رفتاری تیزی میں نا بدل سکی۔ جبکہ خلیجی ممالک سے پاکستان کے مخصوص تعلقات پاک ایران تعلقات میں سرد مہری یا گرمجوشی کم زیادہ کرتے رہتے ہیں۔

اسی طرح بنگلہ دیش کی زیادہ تر تجارت بھارت اور یورپی یونین کے ساتھ ہے۔ جبکہ پاکستان سے بہتر اقتصادی تعلقات کے باوجود انیس سو اکہتر کے واقعات پر بنگلہ دیش کی جانب سے پاکستان سے معافی کا مطالبہ ڈی ایٹ کی کشش سے کہیں زیادہ طاقتور ثابت ہوا ہے۔اگر پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک محلے کی سطح پر سارک کے وجود میں آنے کے تیس برس بعد بھی اسے ایک علامتی پلیٹ فارم سے آگے نا لے جا سکے تو ڈی ایٹ کے امکانات کی کیا بات کی جائے جسے ابھی دو دہائیاں بھی پوری نہیں ہوئیں۔

ویسے تو اسلام آباد کانفرنس کے میزبان پاکستان کی انتہائی خواہش ہے کہ ڈی ایٹ ممالک ایک دوسرے سے اس طرح تعاون کریں کہ عالمی تجارت میں ان کا پیداواری حصہ چھ اعشاریہ آٹھ فیصد سے بڑھ کر اگلے دس برس میں پندرہ فیصد تک پہنچ جائے۔لیکن یہ خواہش اگر ڈی ایٹ کے کسی ایسے رکن کی جانب سے آتی جہاں امن و امان کے حالات اتنے اچھے ہوتے کہ بیرونی سرمایہ کاری کھچ کھچ کے آرہی ہوتی، کرنسی قدرے مستحکم ہوتی، گیس اور بجلی کا سنگین بحران نا ہوتا اور کرپشن اور مہنگائی کا گراف قابلِ قبول سطح پر ہوتا تو بات میں زیادہ وزن ہوتا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔