’اجمل قصاب فرید کوٹ کا ہرگز نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 22 نومبر 2012 ,‭ 09:25 GMT 14:25 PST

’ہم یہیں کے رہنے والے ہیں، ہم نے میڈیا سے اس کے بارے میں سنا ہے، یہ سب افواہ ہے، وہ اس علاقے کا نہیں ہے‘ فرید کوٹ کے رہائشی

چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کو ممبئی کے مختلف ہوٹلوں اور دوسرے عوامی مقامات پر حملوں کے بعد واحد زندہ بچ جانے والے حملہ آور اجمل قصاب کو بھارت کے شہر پونے کی یروڈا جیل میں ٹھیک چار سال بعد اکیس نومبر دو ہزار بارہ کو پھانسی کی سزا دے دی گئی۔تاہم چار سال گزر جانے کے بعد بھی ان کے آبائی شہر کہے جانے والے فرید کوٹ کے کئی رہائشی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اجمل ان کے علاقے میں رہتے تھے۔

پھانسی کے بعد بھی علاقے کے رہائشیوں نے ان سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

اجمل قصاب کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور کے ایک گاوں فریدکوٹ سے بتایا جاتا ہے۔ لاہور سے فرید کوٹ کا فاصلہ تقریباً ایک سو ساٹھ کلومیٹر ہے۔ جب قصاب کی پھانسی کے بعد ہم نے اس کے آبائی علاقے کے لوگوں کے تاثرات جاننے کے لیے فریدکوٹ کا رخ کیا تو ذہن میں عجیب کشمکش تھی۔

ماضی میں اس علاقے میں میڈیا کی پہنچ کو محدود کرنے کے لیے کبھی صحافیوں کو دھمکیاں ملیں، کبھی کیمرے چھینے گئے تو کبھی مار پیٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اپنی خبر کو مکمل کرنے کا تجسس خطرات اور مشکلات کا احساس ہونے کے باوجود ہمیں فرید کوٹ لے ہی گیا۔

قصاب کا گاؤں بھی وسطی پنجاب کے دیہاتوں کی طرح بہت پسماندہ نہیں۔ اجمل کے محلے کے باہر اس وقت بھی ایک کشادہ سڑک زیرِ تعمیر ہے۔ دل میں یہ خوف لیے کہ شاید علاقے میں داخل ہونے سے پہلے ہی لوگ ہمارے ہاتھ میں کیمرہ دیکھ کر ہم پر حملہ آور نہ ہوجائیں، ہم اس گلی میں داخل ہوئے جہاں اجمل کا آبائی مکان ہے۔ محلے میں کچھ بھیڑ تھی اور بچوں کا ایک ہجوم کیمرا دیکھ کر ہمارے ساتھ ہو لیا۔ خواتین اپنے گھروں کے پردوں کے پیچھے سے ہمیں جھانکتی رہیں، کریانے کی چھوٹی چھوٹی دکانوں پر کھڑے مرد کچھ ناراضگی سے ہمیں گھورتے رہے۔

ڈرتے ڈرتے گلی میں کھڑے کچھ لوگوں سے میں نے یہ سوال کیا کہ اجمل کا گھر کون سا ہے۔ کسی نے نفی میں سر ہلایا تو کوئی منہ پھیر کر پرے ہوگیا۔ جب یہی سوال میں نے گلی میں کھڑے ایک بچے سے دہرایا تو اس نے آگے کی طرف ایک سبز دروازے کی طرف اشارہ کردیا۔

ایک اونچی سی دیوار اور سبز روغن والا دروازہ اجمل قصاب کے گھر کا حصہ تھے

مکان کے ساتھ ہی ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ دکان پر بیٹھے ایک عمر رسیدہ شخص شفقت اعجاز سے اجمل اور ان کے خاندان کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا ’میری عمر ساٹھ سال ہے، میری پیدائش اور پرورش اسی علاقے میں ہوئی ہے لیکن میں اس نام کے کسی شخص سے واقف نہیں، میرے سر پر کوئی قرآن بھی رکھے تو میں یہی کہوں گا میں نے اجمل قصاب کو نہیں دیکھا۔ یہ سب ڈراما کیا جارہا ہے۔‘ میں نے سوال کیا کہ یہ ڈراما کیوں کیا جارہا ہے تو شفقت بولے،’ ہمارے علاقے کو بدنام کرنے کے لیے۔‘

مکان کے باہر مقامی لوگوں کا ایک ہجوم سا تھا۔ میں نے باہر کھڑے ایک نوجوان محمود اسلم سے پوچھا آپ اجمل قصاب کو جانتے ہیں تو محمود کا کہنا تھا ’ہم یہیں کے رہنے والے ہیں، ہم نے میڈیا سے اس کے بارے میں سنا ہے، یہاں کئی ٹیمیں آئیں اور سروے ہوئے اور مسئلہ بھی بنا، لیکن یہ سب افواہ ہے، ہم یہی کہتے آئے ہیں اور یہی کہتے ہیں کہ یہ سچ نہیں ہے وہ اس علاقے کا نہیں ہے۔‘

ایک اونچی سی دیوار اور سبز روغن والا دروازہ اجمل قصاب کے گھر کا حصہ تھے۔ کچھ لوگ مکان کا دروازہ کھول کر ہمیں اندر لے گئے۔ وہاں مخصوص دیہی ماحول کے مطابق وسیع و عریض صحن تھا جس میں جانور بندھے تھے، پاس ہی کچھ نئے تعمیر شدہ کمرے بھی تھے۔ قصاب کا خاندان اب اس مکان اور علاقے میں موجود نہیں اب یہاں کوئی اور خاندان رہائش پذیر ہے۔

"یہ ہمارا اور ہمارے باپ دادا کا علاقہ ہے، یہاں لوگ آتے بھی ہماری مرضی سے ہیں اور جاتے بھی ہماری مرضی سے ہی ہیں، آپ کس سے پوچھ کر آئے ہیں اور یہاں کیوں فلم بنا رہے تھے"

مقامی یونین کونسل کے سابقہ ناظم غلام مصطفی وٹو

صحن میں کھڑے ایک شخص سے میں نے اس کی شناخت پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس کا نام عادل ہے اور فرید کوٹ اس کا آبائی علاقہ ہے۔ عادل کا کہنا تھا اجمل قصاب کو اس نے تصویروں میں دیکھا ہے ’وہ تو پاکستانی ہی نہیں، جب پاکستان سے ہی اس کا تعلق نہیں تو فرید کوٹ سے کیسے ہوسکتا ہے، یہ سب ہمارے علاقے کو بدنام کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔‘

بی بی سی کی ٹیم ابھی اجمل قصاب کے مکان کی عکس بندی کر رہی تھی کہ اچانک کچھ لوگ صحن میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک شحض نے کیمرا مین کو جھنجوڑا اور اسے فوری طور پر علاقے سے نکل جانے کو کہا۔ اس تنبیہ کے فوراً بعد ہم نے کیمرا بند کیا اور واپسی کی راہ لی ـ

لیکن اس سے پہلے کہ ہم اپنی گاڑی تک پہنچتے، مقامی یونین کونسل کے سابقہ ناظم غلام مصطفی وٹو اپنے ساتھ پولیس کی نفری لیے ہمارے سامنے آکھڑے ہوئے۔ وٹو صاحب کا کہنا تھا ’ یہ ہمارا اور ہمارے باپ دادا کا علاقہ ہے، یہاں لوگ آتے بھی ہماری مرضی سے ہیں اور جاتے بھی ہماری مرضی سے ہی ہیں، آپ کس سے پوچھ کر آئے ہیں اور یہاں کیوں فلم بنا رہے تھے۔‘

جس پر ہم نے انھیں یقین دلایا کہ جب ہمیں ریکارڈنگ بند کرنے کے لیے کہا گیا ہم نے کام بند کر دیا اور اب ہم واپس جانا چاہتے ہیں لیکن وٹو صاحب اور ان کے ساتھیوں کا اصرار تھا کہ ہم اپنے کیمرے سے فلم ضائع کریں۔

ابھی یہ قضیہ جاری تھا کہ وٹو صاحب اور ان کے حواریوں کو اطلاع ملی کہ ایک اور میڈیا ٹیم قصاب کے محلے پہنچ گئی ہے۔ وٹو صاحب کی توجہ ہم سے ہٹی تو ہم نے غنیمت اسی میں جانی کہ فوراً قصاب کا علاقہ چھوڑ کر اپنے علاقے کا رخ کیا جائے، اس سے پہلے کہ ایک اہم خبر کو کرتے کرتے ہماری اپنی خبر بن جائے۔ آخر پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک ہونے کا ’اعزاز‘ بھی تو حاصل ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔