پاکستان: دو دن میں اڑتیس افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 22 نومبر 2012 ,‭ 16:32 GMT 21:32 PST

صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیس پر پچھلے چوبیس گھنٹوں میں چار حملے کیے گئے جن میں سات پولیس اہلکار اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے شہر پشاور کے بڈھ بیر کے علاقے میں نامعلوم افراد کے پولیس چوکی پر حملے میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ جی ٹی روڈ پر پولیس نے ایک بم ناکارہ بنا دیا ہے۔

دریں اثناء راولپنڈی میں ماتمی جلوس پر ہونے والے خودکش حملے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحققیاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

اس حملے کے فوری بعد پشاور کے ایک اور علاقے پہاڑی پورہ میں پولیس کی چوکی پر دستی بم پھینکا گیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق بڈھ بیر میں سپین قمبر کے قریب پولیس چوکی پر پچاس سے زیادہ شدت پسندوں نے حملہ کیا۔ حملہ آور خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ کی جانب سے آئے تھے جو حملے کے بعد فرار ہو گئے۔

پولیس کی جوابی کارروائی یا حملہ آوروں کے بارے میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

بڈھ بیر میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے نام شمس الرحمان اور شیر ولی بتائے جا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ جمعرات کی صبح پشاور کے نو تعمیر شدہ اوور ہیڈ بریج کے قریب نا معلوم افراد کی طرف سے نصب کیے جانے والے بم کو بم ڈسپوزل سکواڈ نے ناکارہ بنا دیا۔ یہ بم ہاتھوں سے طریقے سے ناکارہ کیا گیا ہے حالانکہ پشاور پولیس کو بم ناکارہ کرنے کے لیے روبوٹس بھی فراہم کیے گئے ہیں جن کا اب تک کہیں استعمال نہیں کیا گیا۔

صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس خاص طور پر طالبان کے نشانے پر ہے جنہوں نے گزشتہ کچھ عرصے میں پولیس کے کئی اعلیٰ اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔

اسی طرح دو روز پہلے ایک خود کش حملہ آور کو اس کے ساتھی کے ہمراہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری جیکٹ پہنی ہوئی تھی اور اس کا ریموٹ کنٹرول اس کے ساتھی کے پاس تھا۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ پولیس نے حملہ آور کے ساتھی کو پہلے پکڑا اور اس کے بعد خود کش بمبار کو گرفتار کیا گیا۔

پولیس نے بدھ کی رات ایک گاڑی سے بھاری مقدار میں باورد اور ڈیٹونیٹر برآمد کرکے ایک شخص کو گرفتار کیا تھا۔

بدھ کی شب پنجاب کے شہر راولپنڈی میں ایک ماتمی جلوس پر ہونے والے خود کش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد چوبیس ہوگئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد باسٹھ بتائی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ کوئٹہ اور کراچی میں بھی بم دھماکے کیے گئے۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ملک میں گزشتہ روز کیے گئے تینوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

راولپنڈی دھماکے کے تحقیقات

فائل فوٹو،

راولپنڈی میں ماتمی جلوس پر ہونے والے خودکش حملے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحققیاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

اس تحقیقاتی ٹیم میں مقامی پولیس کے علاوہ ایف آئی اے ، انٹرسروسز انٹیلیجنس کے اہلکار شامل ہیں۔

یہ خودکش حملہ کنٹونمنٹ کے علاقے میں ہونے کی وجہ سے ملٹری انٹیلیجنس کے اہلکار بھی اس تفتیشی ٹیم کی معاونت کر رہے ہیں۔ اس واقعہ کا مقدمہ تھانہ ریس کورس میں درج کرلیا گیا ہے۔

اس تفتیشی ٹیم میں شامل انٹیلیجنس ادارے کے ایک ہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جائے حادثہ سے خودکش حملہ کا ایک مکمل ہاتھ ملا ہے اس کے علاوہ اُس کے سرکا کچھ حصہ اور چہرے کے ٹکڑے ملے ہیں جنہیں جوڑنے کا عمل کمبائینڈ ملٹری ہسپتال میں جاری ہے جس کے بعد مبینہ خودکش حملہ آور کے چہرے کو شناخت کرنے میں مدد ملے گی۔

اہلکار کے مطابق خودکش حملہ آور کے فنگر پرنسٹس سے اُن کی نشاندہی میں مدد ملے گی۔

اس کے علاوہ پولیس کو جائے حادثہ سے آٹھ ہینڈ گرنیڈ ملے ہیں جو ابھی تک قابل استعمال ہیں۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے متعلق تحققیاتی ٹیم میں شامل اہلکار کا کہنا تھا کہ محض اس تنظیم کے دعوے پر اس مقدمے کی تفتیش کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں اڈیالہ جیل میں قید شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی جو اس معاملے میں مدد گار ثابت ہوگی کہ یہ کارروائی کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے کس گروپ نے کی ہے

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔