’کاوسجی کے بغیر کراچی کو سمجھنا ناممکن‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 25 نومبر 2012 ,‭ 02:07 GMT 07:07 PST

’گٹر بنا نہیں سکتے اور ایٹم بم بناتے ہیں، سیمنٹ میں بجری زیادہ ملا دیتے ہیں اور عمارت پر ماشااللہ لکھ دیتے ہیں کہ اب انہیں خدا بچائے گا‘۔

یہ کسی فلم کے ڈائیلاگ نہیں بلکہ آردیشر کاوسجی کے الفاظ تھے۔

چند سال قبل جب میں بی بی سی ہندی کے ایک ساتھی کے ساتھ ان کے گھر پہنچا تھا تو انہوں نے خیرمقدم کے ساتھ یہ الفاظ کہے تھے۔اس کا پس منظر کیا تھا میں نے ان سے پوچھنے کی ہمت نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے بتایا تھا۔

کوئی بھی موقع ہو، تقریب، تقریر یا تحریر آردیشر کاوسجی کے تنقیدی نشتر ذہنوں کو زخمی کر دیتے تھے۔ ان کے انتقال پر بعض لوگوں نے سوشل میڈیا پر انہیں پسند اور ناپسند میں انتہاپرست قرار دیا ہے۔

پاکستان میں نجی ٹیلی ویژن کی بہتات ہے اور ہر چینل کو نامور کالم نویسوں اور تجزیہ نگاروں کی ضرورت پڑتی ہے مگر کم لوگ ہی کاوسجی سے رابطہ کرتے کیونکہ وہ ان کے سخت گیر موقف کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے تھے۔

اس کے برعکس امریکہ، برطانیہ، فرانس یا انڈیا سے جو بھی صحافی کراچی آتا تو ان کی پہلی خواہش کاوسجی سے ملاقات ہوتی تھی، کراچی ’اے انسٹنٹ سٹی‘ کے مصنف سٹیون سکیپ نے مجھے بتایا تھا کہ جس بہادری اور جرات سے کاؤسجی لکھتے ہیں ان سے ملاقات کیے بغیر کراچی کو سمجھا نہیں جا سکتا۔

کاؤسجی کا گھر بھی ایک فن کا گہوارا نظر آتا تھا، داخلی راستے اور باغیچے میں ان کے والد اور دادا کے مجسمے موجود تھے، ان کا ڈرائنگ روم پینٹگ سے سجا تھا جو پینٹگ ورکشاپ محسوس ہوتی تھی، جہاں وہ مہمانوں سے ملاقات کرتے تھے اسی دوران ان کا ایک کتا ان کے پاس بیٹھا رہتا اور بات چیت کے دوران وہ ایک ہاتھ سے اسے پیار کرتے رہتے۔

ایک امریکی صحافی کو انہوں نے کھانے پر مدعو کیا اور انہیں سمندر کی مچھلی پیش کی، ساتھ میں یہ بھی بتایا کہ کراچی کے نکاسی آب اور صنعتوں کا فضلہ سمندر میں گرتا ہے جس کی وجہ سے سمندر آلودہ ہوگیا ہے۔ یہ مچھلی اسی سمندر کی ہے۔ جس سے صحافی کو تشویش ہوئی تو کاوسجی نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ مچھلی کھاؤ کچھ نہیں ہوگا۔ اس صحافی نے اس دعوت کا ذکر کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا تھا۔

آردیشر کاوسجی کا تعلق ہزاروں برس پرانی تہذیب زرتشت سے تھا، کراچی میں جدید شہری نظام متعارف کرانے اور شہریوں کی فلاح وبہبود میں پارسی برادری کا بھی اہم کردار رہا ہے۔اس کی نشانیاں آج بھی سکولوں اور ہسپتالوں کی شکل میں ملتی ہیں۔ اب یہی پارسی شہر میں نایاب ہوگئے ہیں۔ کاوسجی نے اسی خیراتی مشن کو جاری رکھنے کی کوشش کی تھی۔

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی نیشنلائزیشن کی پالیسیوں کی وجہ سے کاوسجی کی شپنگ کمپنی کو بھی قومی ملکیت میں لے لیا گیا تھا، جس کے بعد وہ ذوالفقار علی بھٹو کے مخالف بنے اور بعد میں اس میں شدت بھی آگئی اور اسی مخالفت میں انہیں جیل یاترا پر بھی جانا پڑا۔

بے چینی، بے قراری

آردیشر کاؤسجی جس کراچی میں پیدا ہوئے وہ مذہبی رواداری، امن اور ترقی کا گہوارہ تھا، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ تمام چیزیں ناپید ہوتی گئیں شاید یہ بے چینی، بے قراری اور اضطراب تلخ اور ترش کالم کی صورت میں نظر آتے تھے۔

بھٹو کے ایک اور ناراض دوست نواب اکبر خان بگٹی بھی کاوسجی کے دوست تھے جن کو وہ ضدی، کتابوں کا کیڑا اور انتقام پسند کہتے تھے۔

سندھ ہائی کورٹ کی عمارت کے سامنے کبھی موہن داس گاندھی کا دیو قامت کانسی کا مجسمہ نصب تھا، آزادی کے ایک سال بعد اسے ہٹا دیا گیا، اس کارروائی میں کاوسجی بھی شریک تھے۔

کاوسجی نے ایک کالم میں اس واقعے کو یوں بیان کیا تھا کہ جنوری 1948میں کراچی میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ محمد علی جناح ایک روز اس مجسمے کے سامنے سے گذر رہے تھے تو انہوں نے اس مجسمے کی سلامتی کا نوٹس لیا اور اپنے سیکرٹری ایس ایم یوسف سے کہا کہ جب تک حالات معمول پر نہیں آ جاتے مجسمہ یہاں سے ہٹا دیا جائے۔

ایس ایم یوسف نے جمشید نرسوانجی سے رابطہ کیا۔ کاوسجی کے مطابق نرسوانجی نے بی وی ایس پارسی سکول کے سابق طالب علموں کو اکٹھا کیا اور انہیں اوزار اور گاڑیاں فراہم کیں۔ رات کی تاریکی میں انہوں نے یہ مجسمہ وہاں سے ہٹا دیا۔

آردیشر کاوسجی جس کراچی میں پیدا ہوئے وہ مذہبی رواداری، امن اور ترقی کا گہوارہ تھا، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ تمام چیزیں ناپید ہوتی گئیں شاید یہ بے چینی، بے قراری اور اضطراب تلخ اور ترش کالم کی صورت میں نظر آتے تھے۔

شہری اور پبلک پراپرٹی کے محافظ آردیشر کاوسجی نے کراچی کی بلڈر مافیا، پلاٹوں اور فلاحی پارکوں پر قبضے اور ماحولیاتی آلودگی پر تنقیدی انداز میں لکھا۔ ان کے قلم نے اگر کسی کو رعایت دی تو وہ جنرل مشرف تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔