’مذہب سے سیاست کو ختم کرنا ہو گا‘

آخری وقت اشاعت:  پير 26 نومبر 2012 ,‭ 01:54 GMT 06:54 PST

پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں نائن الیون حملوں کے بعد کمی آئی تھی تاہم اب بار پھر اس میں شدت دیکھنے میں آئی ہے

پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافے کے مسئلے پر ماہرین کا کہنا ہے کہ فرقوں کو ختم کرنے کی بجائے ان کے ساتھ جینا سیکھنا چاہیے اور اس مذہب میں سیاست کو ختم کرنا ہو گا۔

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔بی بی سی نے پاکستانی میں یوم عاشور کے موقع پر ’ٹاکنگ پوائنٹ‘کا اہتمام کیا جس میں تاریخ دان اور محقق ڈاکٹر مبارک علی، مذہبی سکالر ڈاکٹر جاوید غامدی اور منتظر عباس نقوی نے بی بی سی کے سامعین اور قارئین کے سوالوں کے جواب دیے۔

کلِک ’ساتھ جینا سیکھیں‘: آڈیو سنیے

ٹاکنگ پوائنٹ میں صوبہ پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ شریف سےجمشید رسول نے سوال کیا کہ پاکستان کو اس وقت جو دہشت گردی اور سیکیورٹی کے مسائل درپیش ہیں، ملک میں اس وقت مولانا حضرات، اساتذہ، سماجی کارکنوں سمیت جتنے بھی طبقات ہیں، انہوں نے اپنا کردار صحیح طریقے سے ادا نہیں کیا جس کی وجہ سے مسئلے پیدا ہو رہے ہیں۔

سوال کے جواب میں مذہبی سکالر جاوید احمد غامدی نے کہا کہ بڑی حد تک اس بات سے اتفاق کیا جا سکتا ہے۔بحثیت قوم ہم نے اپنا کردار ادا نہیں کیا، ہمارے دانشوروں، ہمارے صحافیوں، ہمارے سیاست دانوں نے بدقسمتی سے گریز اور فرار کا رویہ اختیار کیے رکھا۔ہمارا بنیادی مسئلہ کیا ہے، فرقہ بندی کہاں سے پیدا ہوتی ہے، اس دہشت گردی کی اساس اور بنیاد کیا ہے، وہ کیا عوامل ہیں جو اس کا باعث بنتے ہیں، ہم یہ کوشش کرتے ہیں، کہ ان چیزوں کو موضوع بحث نہ بنایا جائے۔اس کا اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اتنے لمبے عرصے سے یہ صورتِ حال جاری ہے، لیکن کوئی بھی ایسی مجلس نہیں ہوئی جس میں قومی سطح پر بیٹھ کر اس مسئلے پر غور کرنے کی کوشش کی گئی ہو، اور اس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں یہ رویہ کب سے ہے اور نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کب تک چلے گا۔

ذمہ داری کا تعین

"آگر آپ کو ذمہ داری کا تعین کرنا ہے تو پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ ان مسائل کی نوعیت کیا ہے، ہم اس کو صرف مذہبی تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور ہم خالص مسلکی اختلاف کا نتیجہ دیکھ رہے ہیں۔ اس میں غالباً مذہب کی بنسبت سیاست کا دخل زیادہ ہے، اسلام کا کوئی بھی قدیم مسلک چلا آ رہا ہے، ان میں کسی جگہ بھی تعلیم نہیں دی گی کہ ان لوگوں کو جو تمارے مسلک سے متفق نہیں ہیں، ان کو زندہ رہنے کا حق حاصل نہیں ہے، تو جب یہ نظریہ نہیں ہے تو اگر کسی جگہ مذہب کے نام پر قتل و غارت ہو تو اس کا ذمہ دار مذہب قرار نہیں دیا جا سکتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اس کی صحیح بنیاد تلاش کی جائے اور یہ بنیاد مذہبی سے زیادہ سیاسی نوعیت کی ہیں"

منتظر عباس نقوی

صوبہ پنجاب کے شہر حافظ آباد کے ایک گاوں ٹھٹہ سرداراں سے رانا سہیل کے فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کے سلسلے میں مذہبی جماعتوں کے کردار کے بارے میں سوال کے ایک جواب میں جاوید احمد غامدی نے کہا کہ ہم غیر سیاسی جدو جہد کے قائل ہی نہیں رہے، ہمارے ہاں تعلیمی کام کیے جائیں تو اس میں بھی سیاست آ جاتی ہے، ملی وحدت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، ہر مقدس چیز کو ہم نے طے کر رکھا ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کریں گے۔

لاہور سے عزیز اللہ خان نے سوال کیا کہ کیا شیعہ سنی تنازع ہمارے معاشرے کے زوال کی عکاسی نہیں کرتا؟ اس پر ڈاکٹر مبارک علی نے کہا کہ اس مسئلے کو یہاں تک پہنچنے میں ایک طویل عرصہ لگا ہے اور ان کے خیال میں اس کی اصل وجہ ہماری ریاست کے ڈھانچے میں ہے۔

’جب آپ اپنی ریاست کے ڈھانچے کو مذہبی بینادوں پر استوار کریں گے اور یہ سلسلہ سنہ انیس سو انچاس میں منظور ہونے والی قرار داد مقاصد سے شروع ہوتا ہے، اس قرارداد میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اس ملک میں اسلامی قوانین بنیں گے، اس کے بعد سنہ انیس سو چھپن اور انیس سو باسٹھ ، انیس سو تہتر کے آئین کے اندر جب مذہب کو ریاست کا حصہ بنا دیں یا ریاست کو مذہبی طور پر ایک شکل دے دی، تو ظاہر ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ مذہب کس فرقے کے عقائد کی نمائندگی کرے گی۔ اس کے لیے ہمارے ہاں ہو یہ رہا ہے کہ اس وقت قومی ریاست کے بنیادی نظریے کو نہیں مانتے ہیں، جب ہم اپنی قوم کی بنیاد مذہب پر رکھتے ہیں تو اس صورت میں اپنی مذہبی اقلیتوں کو اس سے خارج کر دیتے ہیں، اس کے بعد ہم نے اپنی مذہبی اقلیتوں کو خارج کیا تو جب کسی قوم کے اندر اقلیتوں کو شامل کرنے کی بجائے خارج کرنے کا سلسلہ شروع ہو جائے تو وہ قوم کمزور ہو جاتی ہے۔

’جب تک ہم ریاست کے اس بنیادی ڈھانچے کو تبدیل نہیں کریں گے، جب تک ریاست کو مذہبی معاملات میں غیر جانبدار نہیں بنائیں گے تو فرقہ وارانہ فسادات اور مذہبی انتہا پسندی کو روکنا مشکل ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں جاوید احمد غامدی نے کہا کہ پاکستان میں پہلے دن سے مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کیا گیا ہے، پاکستان کی تشکیل کے وقت بھی استعمال کیا گیا، پاکستان میں مذہبی جماعتوں نے اقتدار کی منزل تک پہنچنے کے لیے اس کو استعمال کیا، جنرل ضیاالحق نے اپنی آمریت کو مستحکم رکھنے کے استعمال کیا، فوج نے بھی اور امریکہ نے بھی کیا، تو ساری دنیا جب پاکستان کو میدان جنگ بنا کر یہاں مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کرنے کے لیے آ گئی تو آخر اس کے کچھ نتائج نکلنا تھے اور وہ بدترین شکل میں نکل آئے۔

بیرونی سرمایہ

"پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات اور بنیاد پرستی میں بیرون ملک سے آنے والے سرمایے کا بہت بڑا حصہ ہے اور اس بات کو ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے کہ کس طرح سے غیر ملکی ہماری اندرونی سیاست کے اندر ملوث ہو رہے ہیں۔ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے کسی سازش کے تحت نہیں ہو رہا ہے بلکہ ایک خاص منصوبے کے تحت ہو رہا ہے کہ ایک مسلک کے ماننے والے زیادہ طاقت وار ہو جائیں اور دوسروں کو مار کر خوفزدہ کر کے کمزور کر دیا جائے"

ڈاکٹر مبارک علی

پاکستان میں ایک خاص مسلک کو مسلسل ٹارگٹ کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر مبارک علی نے کہا کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات اور بنیاد پرستی میں بیرون ملک سے آنے والے سرمایے کا بہت بڑا حصہ ہے اور اس بات کو ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے کہ کس طرح سے غیر ملکی ہماری اندرونی سیاست کے اندر ملوث ہو رہے ہیں۔ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے کسی سازش کے تحت نہیں ہو رہا ہے بلکہ ایک خاص منصوبے کے تحت ہو رہا ہے کہ ایک مسلک کے ماننے والے زیادہ طاقت وار ہو جائیں اور دوسروں کو مار کر خوفزدہ کر کے کمزور کر دیا جائے۔

منتظر عباس نقوی کا اس پر کہنا تھا کہ اس کی بنیاد تلاش کرنی چاہیے اور آخر ہم اس کو شروع کیوں نہیں کرتے، یہ کام کس پر چھوڑا جائے گا، کون یہ بنیادیں تلاش کرے گا، ہمارے ملک کے دانشور اور مفکرین ان کی نشاندہی کریں گے اور اب اپنے اپنے علم اور یقین کی بنیاد پر ان بنیادوں کی نشاندہی شروع کر دینی چاہیے۔

بندوق سے نہیں دلیل سے

"یہ سکھیں کہ ہم بندوق یا ہتھیار کے زور پر بات نہیں کریں گے بلکہ دلیل کی بنیاد پر بات کریں گے، ہمیں ہر حال میں دوسرے کی بات سننی ہے اور اس کو اپنی بات کہنے کا موقع دینا ہے، دوسروں پر کفر کے فتوے نہیں لگانے، ہمیں ہر حال میں اتنی بات پر اکتفا کرنا ہے کہ ہم اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے یا اس کو صحیح نہیں سمجھتے اور اس سے زیادہ کا حق ہمیں خدا نے نہیں دیا، یہ دنیا جس سکیم پر بنی ہے وہ یہ ہی ہے کہ لوگ اپنے اپنے طریقے سے سوچیں اور پھر اپنے فکر اور عمل کی بنیاد پر خدا کے سامنے جوابدید ہوں"

ڈاکٹر جاوید احمد غامدی

بدین سے عمران علی کے ایک سوال کے آج جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار ہے کون؟ اس پر منتظر عباس نقوی نے کہا کہ آگر آپ کو ذمہ داری کا تعین کرنا ہے تو پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ ان مسائل کی نوعیت کیا ہے، ہم اس کو صرف مذہبی تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور ہم خالص مسلکی اختلاف کا نتیجہ دیکھ رہے ہیں۔ اس میں غالباً مذہب کی نسبت سیاست کا دخل زیادہ ہے۔ اسلام کا کوئی بھی قدیم مسلک چلا آ رہا ہے، ان میں کسی جگہ بھی تعلیم نہیں دی گئی کہ ان لوگوں کو جو تمارے مسلک سے متفق نہیں ہیں، ان کو زندہ رہنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ تو جب یہ نظریہ نہیں ہو تو اگر کسی جگہ مذہب کے نام پر قتل و غارت ہو تو اس کا ذمہ دار مذہب قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کی صحیح بنیاد تلاش کی جائے اور یہ بنیاد مذہبی سے زیادہ سیاسی نوعیت کی ہیں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں منتظر عباس نقوی نے کہا کہ یہ مذہبی لڑائی نہیں ہے اس کی بنیاد شاید سیاست میں ملے، اگر مذہب کا کوئی تعلق بنتا ہے تو وہ صرف اعتبار سے کہ پاکستان کے علما، بالخصوص اور دنیا کے دیگر علاقوں کے وہ علما جن کے مسلک کے اوپر اس قتل و غارت گری کا الزام آ رہا ہے، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ساری مہم کی مخالفت کریں اور کھل کی اس کی مذمت کریں۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع میر پور خاص سے شاہ نواز نے سوال کیا کہ پاکستان میں فرقہ واریت کا کوئی حل بھی ہے اور کیا یہ کبھی ختم بھی ہو سکتی ہے؟

اس پر جاوید احمد غامدی نے کہا کہ فرقہ واریت کو ختم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جب تک انسان سوچتا اور غور کرتا ہے، گروہ بنتے رہیں گے، لوگ سوچیں گے تو اختلاف کرتے رہیں گے اور یہ کوئی خرابی کی بات نہیں ہے، فرقوں کو ختم کرنے کے بجائے ان کے ساتھ جینا سیکھنا چاہیے، اختلاف کو مخالفت نہ بنائیں، ایک دوسرے کی عزت کرنی سیکھنا چاہیے، اور یہ سکھیں کہ ہم بندوق یا ہتھیار کے زور پر بات نہیں کریں گے بلکہ دلیل کی بنیاد پر بات کریں گے، ہمیں ہر حال میں دوسرے کی بات سننی ہے اور اس کو اپنی بات کہنے کا موقع دینا ہے، دوسروں پر کفر کے فتوے نہیں لگانے، ہمیں ہر حال میں اتنی بات پر اکتفا کرنا ہے کہ ہم اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے یا اس کو صحیح نہیں سمجھتے اور اس سے زیادہ کا حق ہمیں خدا نے نہیں دیا، یہ دنیا جس سکیم پر بنی ہے وہ یہ ہی ہے کہ لوگ اپنے اپنے طریقے سے سوچیں اور پھر اپنے فکر اور عمل کی بنیاد پر خدا کے سامنے جوابدہ ہوں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔