حامد میر کی گاڑی کے نیچے سے دھماکہ خیز مواد برآمد

آخری وقت اشاعت:  پير 26 نومبر 2012 ,‭ 15:16 GMT 20:16 PST

حامد میر پر حملے کی کوشش

سینئر صحافی حمد میر کی گاڑی کے نیچے نصب کیا گیا دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔ وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے معاملے کی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید کی حامد میر سے خصوصی گفتگو۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ صحافی حامد میر کی گاڑی میں دھماکہ خیز مواد نصب کیے جانے کے واقعے کی تحقیقات شروع کی دی گئی ہے۔

اس سے پہلے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نجی ٹی وی چینل جیو کے اینکر پرسن حامد میر کی گاڑی میں نصب کیا گیا بارودی مواد ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔

سرکاری ریڈیو نے انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کے حوالے سے بتایا کہ پیر کو حامد میر کی گاڑی کے نیچے نامعلوم افراد نے بارودی مواد نصب کیا تھا۔

ان کے مطابق اطلاع ملنے پر پولیس بم ڈسپوزل سکواڈ نے بارودی مواد کو ناکارہ بنا دیا۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے ملزمان کی گرفتاری میں مدد کے لیے معلومات فراہم کرنے والے کو پانچ کروڑ نقد انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

رحمان ملک کے بقول نصب کیے جانے والا دھماکہ خیز مواد بڑا طاقت ور تھا اور اس کے پھٹنے سے بڑی تباہی پھیل سکتی تھی۔

پیر کو وزیر داخلہ نے صحافی حامد میر کے ہمراہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حامد میر کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی طرف سے صحافیوں کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔

رحمان ملک کے بقول ملک میں چوکیداری نظام متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ دہشت گردی کی ایسی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔

حامد میر نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیر صبح اپنے ڈرائیور کے ساتھ کسی کام سے مارکیٹ گئے اور گاڑی ایک جگہ پارک کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ دھماکہ خیز مواد ان کی سیٹ کے نیچے نصب کیا گیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسلام آباد میں حامد میر کی رہائش گاہ پر کھڑی ان کی گاڑی میں نصف کلوگرام دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا تھا۔

حامد میر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خطرے کے حوالے سے چند دن پہلے وزارتِ داخلہ کو لکھے گئے ایک خط میں ان کا ذکر تھا۔

گزشتہ ماہ اکتوبر میں پاکستان کی وادی سوات میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی ملالہ یوسفزئی کی کوریج کرنے کے حوالے سے طالبان نے حامد میر سمیت متعدد صحافیوں کو ٹارگٹ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

خیال رہے کہ صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان کو صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ملک قرار دیتی ہیں۔

اس سے پہلے بھی ملک میں صحافیوں کو دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔