لاہور: ’کھانسی کا شربت‘ پینے سے سولہ افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 26 نومبر 2012 ,‭ 10:21 GMT 15:21 PST
مریض

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ شربت میں کوئی اور نشہ آور چیز ملی ہوئی ہو

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں کھانسی کا شربت پینے سے سولہ افراد ہلاک اور چودہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار نے خبر دی ہے کہ متاثرہ افراد کی عمریں بیس سے چالیس سال کے درمیان ہیں۔ متاثرہ افراد کا علاج لاہور کے میو ہسپتال میں کیا جا رہا ہے۔

ہسپتال حکام کے مطابق آٹھ افراد اب بھی میو ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جب کہ چھ کو ابتدائی طبی امداد دے کر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے جب کہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ میاں شہباز شریف نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے 72 گھنٹوں کے اندر اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

پولیس اس سلسلے میں جگہ جگہ چھاپے مار رہی ہے اور دوا تقسیم کرنے والوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جس فیکٹری میں یہ دوائی بنتی ہے اسے بھی سیل کر دیا گیا ہے۔

زیادہ تر اموات جمعہ اور اتوار کے درمیان ہوئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اکثر متاثرین کا تعلق لاہور کے علاقے شاہدرہ سے ہے۔

صوبہ پنجاب کے مشیرِ صحت خواجہ سلمان رفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ شربت سے متاثر ہونے والے لوگ اس شربت کو نشے کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ خدشہ ہے کہ مارکیٹ میں آنے والے اس دوا کے اسٹاک میں خرابی ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دوا کے کیمیائی تجزیے اور مرنے والے افراد کے پوسٹ مارٹم کے بعد ہی ہلاکتوں کی اصل وجہ معلوم ہو سکےگی۔

ادھر کھانسی کے شربت کے زیرِ حراست ڈسٹری بیوٹر محمد رزاق کا کہنا ہے کہ وہ سولہ برس سے کھانسی کا یہ شربت میٹیکل سٹورز کو سپلائی کر رہے ہیں اور کھبی ایسی شکایت نہیں آئی۔

حکام کے مطابق چند افراد کی نعشیں ایک قبرستان میں پائی گئیں اور مقامی پولیس چیف نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بعض نشہ کرنے والے افراد قبرستان میں بیٹھ کر نشہ کرتے تھے جس سے امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ شاید وہ افراد ہی اس کا نشانہ بنے۔

جعلی ادویات

2010 میں پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں فروخت ہونے والی چالیس سے پچاس فیصد ادویات جعلی ہیں۔

میو ہسپتال میں اس شربت سے متاثر ہونے والے ایک نوجوان اشفاق نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ایک سال سے یہ شربت استعمال کر رہے ہیں اور ہفتے میں ایک سے دو شیشیاں پی لیتے ہیں۔ لاہور کے علاقے شاد باغ کے رہائشی اشفاق نے کہا کہ ایک بوتل چالیس روپے کی آتی ہے۔

ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ بہت سے افراد کھانسی کے شربتوں میں موجود خواب آور اجزا کی وجہ سے اسے نشہ آور مواد کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

ڈاکٹر نے کہا کہ ممکن ہے کہ ان افراد نے اس شربت میں کوئی اور نشہ آور چیز بھی ملا لی ہو جس کی وجہ سے یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

پولیس نے تفتیش شروع کر کے متاثرہ افراد کے بیانات قلم بند کر لیے ہیں۔

پاکستان میں جعلی اور ملاوٹ شدہ ادویات کے وجہ سے ہلاکتیں معمول کی بات ہیں۔ اس سال فروری میں دل کے مرض کے لیے ایک دوا میں ملاوٹ کی وجہ سے 119 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

سال 2010 میں پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں فروخت ہونے والی چالیس سے پچاس فیصد ادویات جعلی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔