بلوچستان: سرکاری ہسپتال مریضوں سے خالی

آخری وقت اشاعت:  منگل 27 نومبر 2012 ,‭ 13:18 GMT 18:18 PST

بلوچستان میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے بعد سرکاری ہسپتال مریضوں سے خالی ہوگئے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کا متبادل نظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ ہسپتال مریضوں سے خالی ہوگئے ہیں۔

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ڈاکٹر، ممتاز ماہر چشم ڈاکٹر سعید خان کے اغوا کے خلاف ہڑتال پر ہیں۔

پولیس اور ڈاکٹروں کی تنظیم پی ایم اے بلوچستان کے مطابق ڈاکٹر سعید خان کو تاوان کے لیئے اغوا کر لیا گیا ہے اور ان کی بازیابی کے لیے ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیاگیا ہے۔

داکٹر سعید خان کے اغوا سے کچھ عرصہ قبل بلوچستان کے ممتاز ماہر نفسیات ڈاکٹر غلام رسول کواغوا کر لیاگیا تھا۔ پولیس اور پی ایم اے بلوچستان کے مطابق ڈاکٹر غلام رسول خان کو ایک کروڑ روپے تاوان کی ادائیگی کے بعد اغوا کاروں نے چھوڑ دیا تھا۔

جبکہ اسی عرصہ میں خضدار اور مستونگ کے علاقوں میں دو ڈاکٹروں کو بھی قتل کیاگیا۔ اس صورتحال کے باعث بلوچستان کے ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں اور پی ایم اے بلوچستان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر سعید خان کی بازیابی تک ہڑتال جاری رہے گی۔

"یہ انتظام کوئٹہ چھاؤنی میں سی ایم ایچ ہسپتال میں ہوگیا ہے ۔ وہاں سویلین مریضوں کو علاج معالجے کے لیے تمام سہولیات فراہم کئے گئے ہیں اور وہاں مریضوں کا بہتر انداز سے علاج ہورہا ہے"

عصمت اللہ کاکڑسیکریٹری صحت بلوچستان

دو ہفتہ قبل جب ڈاکٹروں نے گرفتاریوں اور پولیس کی جانب سے ان کے جلوس پر شیلنگ کے بعد مکمل ہڑتال کا اعلان کیا تو حکومت بلوچستان کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں فوجی ڈاکٹروں کی خدمات لینے کی ہدایات جاری کی گئیں تھی ۔

تاحال سرکاری ہسپتالوں میں فوجی ڈاکٹروں کی تعیناتی تو نہیں ہوئی لیکن بلوچستان کے سیکرٹری صحت عصمت اللہ کاکڑ کا اس بارے میں کہنا ہے ’یہ انتظام کوئٹہ چھاؤنی میں سی ایم ایچ ہسپتال میں ہوگیا ہے ۔ وہاں سویلین مریضوں کو علاج معالجے کے لیے تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور وہاں مریضوں کا بہتر انداز سے علاج ہو رہا ہے۔‘

صوبائی حکومت کی جانب سے کوئٹہ شہر میں سی ایم ایچ میں سویلین مریضو ں کے لیے علاج معالجے کا انتظام تو کیاگیا لیکن سکیورٹی کی سخت انتظامات کے باعث وہاں تک عام آدمی کی رسائی ایک مشکل کام ہے۔

سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کے لیے متبادل انتظام نہ ہونے کے باعث مر یض ان کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور کوئٹہ کے دو بڑے ہسپتال سنڈیمین سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں ہو کا عالم ہے۔

سنڈیمن ہسپتال کے آرتھوپیڈک وارڈ میں موجود ایک مریض کے رشتہ دار عبدالباسط نے بی بی سی کو بتایا ’اس وارڈ میں دو تین مریض رہ گئے ہیں یہاں پر ڈاکٹر نہیں آتے ۔ جس کی وجہ سے مریضوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔باہر سے جو مریض آتے ہیں ان کو داخل نہیں کیا جاتا جس سے لوگوں کوزیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے“ ۔

کوئٹہ شہر میں دوسرے بڑے ہسپتال سنڈیمن ہسپتال کے مختلف وارڈز میں سات سو پچاس مریضوں کے داخلے کے لیے بسترموجود ہیں۔

ایک نرس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث یہاں اضافی بستروں کا انتظام کیا جاتا ہے اس طرح بیک وقت ہسپتال میں ایک ہزار سے بارہ سومریض مختلف وارڈز میں داخل رہتے ہیں۔‘

لیکن سنڈیمن سول ہسپتال میں جب ایک ذمہ دار اہلکار سے وہاں موجود مریضو ں کی موجودہ تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے مختلف وارڈوں میں موجود مریضوں کی تعداد کے بارے میں گنتی شروع کی تو وہ 20 سے زائد مریض نہیں گن سکے۔

شہر میں سب سے بڑے ہسپتال بولان میڈیکل کملیکس ہسپتال میں بستروں کی تعداد سنڈیمن ہسپتال کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور دونوں ہسپتالوں سے سینکڑوں مریض روزانہ عارضی علاج کے لیے بھی رجوع کر تے تھے۔

کوئٹہ شہر میں چار بڑے ہسپتالوں کے علاوہ ضلع کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 30اضلاع میں اندازا تاً11عام ہسپتال، 27 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال،79دیہی مراکز صحت ،554بنیادی مراکز صحت اور555سول ڈسپنسریز ہیں

حکومت کی جانب سے تاحال سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیا ت کو بحال تو نہیں کیا جاسکا تاہم 70 سے زائد ہڑتالی ڈاکٹروں کو معطل کرنے کے علاوہ ان کی تنخواہیں بند کی گئی ہیں ۔

سیکرٹری صحت عصمت اللہ کاکڑ کاکہنا ہے ” جب کوئی سرکاری ملازم کسی جرم میں گرفتار ہوتا ہے تو وہ معطل سمجھا جا تا ہے ۔تہتر سے زائد جو ڈاکٹر گرفتار ہوئے ہیں ان کو معطل کیا گیا ہے اور ان کی تنخواہیں بند کرنے کی سمری اکاؤنٹنٹ جنرل کو بھیج دی گئی ہے۔‘

جن ڈاکٹروں کو معطل کیا گیا ہے سرکاری ہسپتالوں میں ان کے داخلے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

دو ہفتے بعد آج وزیر اعلیٰ سول ہسپتال کوئٹہ کے ایمرجنسی کا شعبہ کام کر رہا ہے جہاں مریضوں کا آنا جانا ہے ۔

دوسری جانب ہڑتالی ڈاکٹر اس ہڑتال کی ذمہ داری حکومت پر یہ کہتے ہوئے ڈال رہے ہیں کہ حکومت انہیں تحفظ دینے میں ناکام ہوگئی ہے اور وہ اپنے تحفظ کے لئے یہ ہڑتال کرنے پر مجبور ہیں ۔

ایک معطل ڈاکٹرشہزاد داؤد نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا’بلوچستان کے ڈاکٹر تنخواہوں میں اضافے یا مراعات کے لئے احتجاج نہیں کررہے بلکہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمارے مغوی ساتھی ڈاکٹر سعید خان کو بازیاب کرایا جائے اورانہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔‘

کوئٹہ شہر میں چار بڑے ہسپتالوں کے علاوہ ضلع کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 30 اضلاع میں اندازا تاً گیارہ عام ہسپتال، سائیس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال، اناسی دیہی مراکز صحت ،554بنیادی مراکز صحت اور555سول ڈسپنسریز ہیں۔

ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث ان تمام مراکز صحت میں علاج معالجے کی سہولیات معطل ہو کر رہ گئی ہیں اور لوگ ایک سنگین صورتحال سے دو چار ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔