تحریک طالبان کے ترجمان کی ’مخبری‘ پر انعام کا اعلان

آخری وقت اشاعت:  منگل 27 نومبر 2012 ,‭ 12:20 GMT 17:20 PST

رحمٰن ملک نے کہا کہ وہ جلد احسان اللہ احسان کے بارے میس حقائق منظر عام پر لائیں گے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کو بیس کروڑ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

رحمٰن ملک نے یہ بات اسلام آباد میں وزارت داخلہ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

وزیر داخلہ رحمان ملک ملالہ یوسف زئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اﷲ احسان کے سر کی قیمت دس لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔

رحمان ملک نے کہا کہ احسان اللہ احسان کا تعلق تحریک طالبان سے نہیں ہے بلکہ یہ ملک میں بیرونی عناصر کے لیے کام کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نےصحافی اور نجی ٹی وی چینل کے اینکر پرسن حامد میر پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی اردو سے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک ’سیکولر صحافی‘ ہونے اور طالبان پر تنقید کرنے کی وجہ سے حامد میر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

حامد میر پر سوموار کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ نامعلوم افراد نے ان کی ذاتی گاڑی کے نیچے بم نصب کیا تھا جو کسی وجہ سے پھٹ نہیں سکا۔

حامد میر کے مطابق یہ بم ایف سیون جیسے محفوظ علاقے میں ان کی گاڑی کے ساتھ لگایا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔