کراچی میں نئی انتخابی حلقہ بندیاں کریں:سپریم کورٹ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 28 نومبر 2012 ,‭ 13:05 GMT 18:05 PST

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیاں کرنے کا حکم دیا ہے

پاکستان کے سپریم کورٹ نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو کراچی میں نئی حلقہ بندیوں پر لائحہ عمل طے کرکے تین دن میں عدالت کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ کراچی میں انتخابی حلقوں کی ازسر نو حد بندی اس طرح کی جائے کہ کسی ایک گروپ یا سیاسی جماعت کی اجارہ داری قائم نہ ہو۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز کراچی میں زمین کے مالکانہ حقوق کی منتقلی پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے آج کراچی بد امنی کیس کے فیصلے پر عملد درآمد کا جائزہ لیا۔

عدالت نے سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد کو ہدایت کی کہ تین دن کے اندر سندھ حکومت سے مشاورت کرکے کراچی میں انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی کا طریقۂ کار طے کریں اور رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کے لئے تیار ہے، کراچی کی نئی حلقہ بندی نہ صرف کراچی بلکہ ملک، عوام اور سیاسی جماعتوں کے لئے بھی بہتر ثابت ہوگی۔

عدالت نے پولیس اور رینجرز کے حکام کو بھی ہدایت کی کہ کراچی میں کارروائی کے دوران دونوں ادارے اپنے رابطے بہتر کریں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ دونوں اداروں کے درمیان رابطے اور اعتماد کے فقدان کا فائدہ ملزم کو ہوتا ہے جس کے خلاف ثبوت و شواہد ضائع ہوجاتے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ گرفتاری بعض اوقات رینجرز کرتی ہے جبکہ اسے ظاہر پولیس افسران کرتے ہیں ایسا مقدمہ کیسے چل سکتا ہے جس کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہو

عدالت نے الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ سندھ حکام، یعنی چیف سیکرٹری، ریوینیو بورڈ کے حکام، ضلعی افسران اور دیگر متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد تین دن میں عدالت کو آگاہ کریں۔

سپریم کورٹ نے ایک اور مقدمے میں قریباً آٹھ سو دیہات کی زمین کے مالکانہ حقوق کی منتقلی پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

سینیئر ممبر ریونیو بورڈ شاذر شمعون نے عدالت کو بتایا کہ ریوینیو بورڈ کی عمارت میں ہنگامہ آرائی کے دوران آگ لگنے سے قریباً آٹھ سو مضافاتی دیہہ کا ریکارڈ جل گیا تھا اب ہم نے بہتّر فیصد ریکارڈ درست کرلیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قریباً پانچ سو دیہات کا ریکارڈ درست کرلیا گیا ہے۔

عدالت نے انہیں حکم دیا کہ جب تک ریکارڈ مکمل طور پر درست نہ ہو اس وقت تک زمین کی منتقلی روک دی جائے۔

عدالت نے پولیس اور رینجرز کے حکام کو بھی ہدایت کی کہ کراچی میں کارروائی کے دوران دونوں ادارے اپنے رابطے بہتر کریں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ دونوں اداروں کے درمیان رابطے اور اعتماد کے فقدان کا فائدہ ملزم کو ہوتا ہے جس کے خلاف ثبوت و شواہد ضائع ہوجاتے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ گرفتاری بعض اوقات رینجرز کرتی ہے جبکہ اسے ظاہر پولیس افسران کرتے ہیں ایسا مقدمہ کیسے چل سکتا ہے جس کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہو۔

عدالت نے ہدایت کی کہ جب رینجرز کے پاس پولیس کے اختیارات ہیں تو پھر وہ تھانہ بنائیں، ملزم کو پکڑیں، مقدمہ درج کریں قانونی دائرے میں رہ کر کام کریں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ شہر میں دہشتگردی بم دھماکے ہوتے ہیں لیکن رینجرز نے منشیات میں ملوث ملزمان پکڑے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز نے عدالت میں تسلیم کیا کہ بعض واقعات میں واقعی دیر ہوجاتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس سے رابطوں کا مسئلہ حل کرلیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔