’ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے خفیہ اکاؤنٹس سے لاعلم ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 27 نومبر 2012 ,‭ 10:19 GMT 15:19 PST

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تمام ادارے اپنے اپنے اکاؤنٹس کا آڈٹ کروانے کے پابند ہیں۔

پاکستان کے آڈیٹر جنرل نے کہا ہے کہ ملک کی فوج کے لیے اسلحہ اور گاڑیاں تیار کرنے والی فیکٹری ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں اربوں روپے کے ایسے خفیہ اکاؤنٹس ہیں جن کے بارے میں حکومت ابھی تک لاعلم ہے۔

آڈیٹر جنرل پاکستان بلند اختر رانا نے یہ انکشاف پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں کیا۔

تاہم اس اداروں کے ذمے داروں نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا کہ وزارت قانون کی ہدایت کی روشنی میں وہ ان اداروں کا آڈٹ کروانے کے پابند نہیں ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق آڈیٹر جنرل کے بقول وہ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں بطور کنٹرولر اکاؤنٹس بھی رہے ہیں اور اُنہوں نے اس ضمن میں متعلقہ حکام کو آگاہ بھی کیا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ ان اکاؤنٹس کے بارے میں متعلقہ حکام نے کبھی بھی حکمرانوں کو ان اکاؤنٹس کے بارے میں آگاہ نہیں کیا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ندیم افضل چن نے سیکریٹری دفاعی پیداوار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد اقبال سے ان اکاؤنٹس کی تفصیلات، اس میں موجود رقم اور جن افراد کے ناموں پر یہ اکاؤنٹس تھے اُن کے بارے میں مکمل معلومات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو دینے کی ہدایت کی۔

آڈیٹر جنرل نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا کہ وزارت دفاعی پیداوار کے ماتحت ادارے پاکستان آرڈیننس فیکٹری ویلفیر فنڈز اور واہ نوبل لمیٹڈ نے اپنے اکاؤنٹس کا آڈٹ کروانے سے انکار کردیا ہے۔

سیکرٹری دفاعی پیدوار نے، جو کہ سابق چیف آف جنرل سٹاف بھی رہے ہیں، کہا کہ ویلفیر فنڈز 1961میں قائم کیا کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس ادارے کے اکاؤنٹس کا کبھی بھی آڈٹ نہیں ہوا۔

"اجلاس کے بعد سیکرٹری وفاعی پیداوار شاہد اقبال نے اخبار نویسوں سے بھی بات نہیں کی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے کُل چھبیس اراکین ہیں لیکن چیئرمین سمیت صرف پانچ اراکین آج کے اجلاس میں موجود تھے۔ یاسمین رحمان اور رضا حیات ہراج متحرک رہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اُن اداروں کی تعداد میں کمی آرہی ہے جنہوں نے اپنے اکاؤنٹس کی تفصیلات دینے سے انکار کیا ہے۔"

شہزاد ملک

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تمام ادارے اپنے اپنے اکاؤنٹس کا آڈٹ کروانے کے پابند ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جو ادارے اپنے اکاؤنٹس کا آڈٹ نہیں کروائیں گے اُن کے خلاف پارلیمنٹ کو سفارش کی جائے گی کہ وہ ان اداروں کے خلاف ریفرنس بھیجیں۔

یاد رہے کہ اس وقت پچیس ایسے سرکاری ادارے ہیں جنھوں نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے اپنے اکاؤنٹس کا آڈٹ کروانے سے انکار کیا ہے۔

دوسری جانب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایوانِ صدر اور سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو اپنے اکاؤنٹس کی تفصیلات بتانے کے لیے دسمبر کے دوسرے ہفتے کو پیش ہونے کو کہا ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو اپنے اکاؤنٹس کی تفصیلات پیش کرنے کا کہا تھا لیکن اُنہوں نے کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے معذوری ظاہر کی تھی۔

ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹی کا فیصلہ ہے کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار پارلیمنٹ کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔