وفاقی حکومت کالاباغ ڈیم تعمیر کرائے: لاہور ہائی کورٹ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 29 نومبر 2012 ,‭ 12:04 GMT 17:04 PST

پاکستان کی لاہور ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت مشترکہ مفادات کونسل کی سفارش پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی پابند ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ فیصلہ کالا باغ کی تعمیر کے حوالے سے دائر کی گئی چھ درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 1991 میں مشترکہ مفادات کونسل نے سفارش کی تھی کہ کالا باغ ڈیم تعمیر کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 154 کے تحت وفاقی حکومت مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد کرنے کی پابند ہے۔

کالا باغ کی تعمیر کے حوالے سے چھ درخواستیں لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھیں۔

ایک درخواست گزار ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو توانائی بحران کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے 1984 اور 2004 میں بھی کالا باغ ڈیم بنانے کی سفارش کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس پر عملدرآمد نہیں کرسکتی تو یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔