کشمیر: برفانی تودے گرنےسے چودہ ہلاک، سات لاپتہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 دسمبر 2012 ,‭ 13:56 GMT 18:56 PST

گیاری میں تودے گرنے کے آٹھ ماہ بعد بھی لاشیں تلاش کرنے کا عمل جاری ہے

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب برفانی تودوں کی زد میں آ کر چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں سے آٹھ کا تعلق پاکستانی فوج سے ہے۔

پاکستانی فوج کے مطابق تودے گرنے کے واقعات کے بعد سات افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔

عسکری حکام کے مطابق یہ واقعہ مظفر آباد سے اسّی میل دور وادئ نیلم کے شاردا سیکٹر میں دانا تاجیان کے مقام پر پیش آیا اور دشوار گزار علاقے اور خراب موسم کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

اس سے قبل ضلع نیلم کے ڈپٹی کمشنر راجہ ثاقب مجید نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلا تودہ جمعہ کی صبح گرا تھا جس میں تین فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

ان کے مطابق ان کی لاشوں کو نکالنے کے لیے آٹھ فوجی اور دس عام شہری اس جگہ پہنچے اور تلاش کا کام شروع کیا تاہم دوسری سلائیڈ کے باعث وہ بھی دب گئے‘۔

حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں ہونے والی شدید برفباری ممکنہ طور پر تودے گرنے کی وجہ بنی تاہم حتمی طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

یہ رواں برس ان علاقوں میں برفانی تودے گرنے سے ہلاکتوں کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔

اس سے قبل چھ اور سات اپریل کی درمیانی شب سیاچن گلیشیئر کے گیاری سیکٹر میں ایک اسّی فٹ اونچا اور ایک کلومیٹر طویل برفانی تودہ پاکستانی فوج کی ناردرن لائٹ انفنٹری کے بٹالین ہیڈکوارٹر پر آ گرا تھا اور وہاں موجود ایک سو اٹھائیس فوجی اور گیارہ شہری اس تودے تلے دب گئے تھے۔

ان افراد کو اب باضابطہ طور پر مردہ قرار دیا جا چکا ہے اور پاکستانی فوج کے جوان اس حادثے کے تقریباً آٹھ ماہ بعد بھی ان افراد کی لاشیں تلاش کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔