کوئٹہ: ڈاکٹروں کی ملک گیر ہڑتال کی دھمکی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 دسمبر 2012 ,‭ 17:20 GMT 22:20 PST

پی ایم اے نے بلوچستان کے ڈاکٹروں کے مطالبات ایک ہفتے میں تسلیم نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دی ہے

پاکستان کے ڈاکٹروں کی ملک گیر تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے بلوچستان کے ڈاکٹروں کے مطالبات تسلیم کرنے کے لیے ایک ہفتے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس دوران ان کے مطالبات تسلیم نہ کیےگئے تو ڈاکٹر پورے ملک میں ہڑتال کریں گے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ڈاکٹر اظہر جدون نے جمعرات کی شام کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بلوچستان کے ڈاکٹروں کے مطالبات کو جائز قرار دیا۔

انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بلوچستان کے ڈاکٹروں کے مطالبات آئندہ سات دنوں میں پورے نہ ہوئے تو ڈاکٹر پورے ملک میں ہڑتال کا اعلان کریں گے۔

"اگر سات دن کے اندر اندر بلوچستان کے ڈاکٹروں کی انیس نومبر والی پوزیشن بحال نہیں کی جاتی تو ہم پورے ملک میں ہڑتال کا اعلان کریں گے"

ڈاکٹر اظہر جدون، مرکزی صدر پی ایم اے

ان کا کہا تھا کہ اس وقت بلوچستان میں ڈاکٹروں کو سب سے زیادہ مشکلات درپیش ہیں جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتاہے کہ اب تک بلوچستان میں چھبیس ڈاکٹر ہلاک کیے گئے اور سترہ سے زیادہ ڈاکٹروں کو تاوان کے لیے اغواء کیا گیا۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر اور دیگر عہدے دار بلوچستان کے ڈاکٹروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جمہ کو کوئٹہ پہنچے تھے۔

ڈاکٹر اظہر جدون کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں نے اپنے جائز مطالبات منوانے کے لیے ہڑتال کیا جس کی وجہ سے انہیں گرفتار کرنے کے علاوہ انہیں بڑی تعداد میں معطل بھی کیاگیا۔

انہوں نے بلوچستان کے ڈاکٹروں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’ اگر سات دن کے اندر اندر بلوچستان کے ڈاکٹروں کو انیس نومبر والی پوزیشن پر بحال نہ کیا گیا تو ڈاکٹر پورے پورے ملک میں ہڑتال کریں گے۔‘

یاد رہے کہ ڈاکٹر وں کے دیگر مطالبات میں ان کے خلا ف قائم مقدمات کی واپسی ، معطل ڈاکٹروں کی بحالی اور انہیں تحفظ فراہم کرنا شامل ہیں۔

ڈاکٹروں کا یہ بھی مطالبہ رہا ہے کہ اِغواء ہونے والوں کی بازیابی کے لیے دیئے گئے تاوان کی رقم بھی ادا کی جائے جسے حکومت ماننے سے انکار کرتی رہی ہے۔

ڈاکٹر سعیدخان کے اغواءکے بعد بلوچستان کے ڈاکٹروں نے ہڑتال کا سلسلہ شروع کیا تھا اور انیس نومبر کے بعد سے انہوں نے تمام سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں کام مکمل طور پر بند کیا تھا۔ ڈاکٹر سعید خان 28 نومبر کو بازیاب ہوگئے لیکن ڈاکٹروں نے اپنے دوسرے مطالبات پورے ہونے تک ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے بلوچستان کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔