’ کالا باغ ڈیم پر اعتراضات حقیقی ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 دسمبر 2012 ,‭ 09:12 GMT 14:12 PST

بقول سید علی نقوی کے کالا باغ ڈیم منصوبہ سیاست کی نظر ہوگیا ہے

یہ ایک عجیب اتفاق تھا کہ جس دن لاہور ہائيکورٹ نے پنجاب حکومت کو مجوزہ لیکن انتہائي متنازع کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا حکم دیا، اسی روز امریکہ کے شہر نیویارک میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے کتاب ’انڈس واٹر اینڈ سوشل چینج: دی ایوولیوشن آف ایگریرین سوسائٹی ان پاکستان‘ کی تقریب رونمائی ہوئی۔

کتاب کے نام کا اگر ترجمہ کیا جائے تو وہ کچھ یوں ہوگا ’دریائے سندھ کا پانی اور معاشی تبدیلی: پاکستان میں زرعی معاشرے کا ارتقاء‘۔

اس کتاب کے مصنف سید علی نقوی نے اٹھاون برس بطور انجنیئر اور پانی کے امور کے ماہر کے طور پر پاکستان کی خدمت کی ہے۔

کتاب کو متعارف کروانے کے لیے منعقدہ اس تقریب میں نیویارک میں مختلف شعبوں، سفارتکاری سے لیکر سول سوسائٹی، آرٹ اور ادب، میڈیا، شاعری، درس و تدریس، طب و سائنس اور انجنیئرنگ، بزنس اور فنانس سے وابستہ کئی معروف خواتین و حضرات نے شرکت کی جن میں پاکستانی اور مقامی امریکی شہری بھی شریک تھے۔

سات سو چھیانوے صفحات پر مشتمل اس کتاب میں کئی چارٹس، نقشے، نادر تصاویر اور ڈرائنگز بھی دی گئی ہیں جن کو میں دریائے سندھ کی نو ہزاری آبی تاریخ پر بائیبل کہوں گا۔

دریائے سندھ کے پانی اور اس کے حوالے سے پاکستانی زرعی سماج میں ہونے والے ارتقاء اور سماجی تبدیلی کے تناظر میں لکھی اپنی اس کتاب میں سید علی نقوی نے موریہ گپت عہد سے لے کر موجودہ دور تک دریائے سندھ کا احاطہ کیا ہے۔

مصنف کہتے ہیں ’چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئي‘۔ اس کتاب کی ابتداء میں انہوں نے اسد اللہ خان غالب کی فارسی غزل کا مصرعہ دیا ہے جس کا مطلب کچھ یوں ہے’کہ گیا تو میں تماشےکی بوسیدگی لینے تھا لیکن ایک جہاں رنگ و بو تراش کر لایا‘۔

"سندھ اور پختونخواہ کے لوگوں کے کالاباغ ڈیم منصوبے کے خلاف اعتراضات و خدشات واجب اور حقیقی ہیں جن کو دور کرنے کے لیے پاکستان کی حکومتوں نے کبھی سنجیدگي سے کوششیں ہی نہیں کیں۔"

سید علی نقوی

کتاب کا سرورق مصور صادقین کی ایک پینٹنگ ہے۔

سید علی نقوی پاکستان میں آبی نظام کے نفاذ میں اہم کردار رہے ہیں خاصں کر منگلا۔ تربیلا اور کالا باغ ڈیموں کے منصوبوں پر بھی انھوں نے خدمات انجام دیں ہیں۔انیس سو اکیاسی سے دو ہزار آٹھ کے سالوں کو وہ دورِ آشوب کہتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں ’اصل میں تو کالا باغ ڈیم بنانے کے منصوبے پر غور انیس سو انچاس سے شروع ہوگیا تھا اور ابتدائی تحقیقی جائزہ انیس سو تریپن میں کرائی گ‏ئي تھی جس کی اوائلی سائیٹ موجودہ سائیٹ کی ڈاؤن اسٹریم تھی۔‘

’سنہ انیس سو چھہتر میں الگ طور پر کالا با‏غ ڈیم نام سے ادارہ قائم کر کے واپڈا کے تحت لایا گیا۔ سنہ انیس سو اسی میں فیزییبلٹی سٹڈی اور دریائے سندھ پر کثیر المقاصد ذخائر جمع کرنے کے منصوبوں کے لیے تفصیلی انجنیئرنگ شروع کی گئی جس کے تحت دریائے سوان کے عین نیچے اور تریبلا ڈیم کی ڈاؤن سٹریم ایک سو بانوے کلومیٹر اور کالا باغ ڈیم کی اوائلی سائیٹ سے چوبیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک اپ اسٹریم ڈیم بنانا مقصود تھا۔‘

’سنہ انیس سو بیاسی میں تفصیلی فزیبلٹی رپورٹ تیار کروائي گئی جبکہ جون سنہ انیس سو اٹھاسی میں کالا باغ ڈیم منصوبے کا نقشہ مکمل ہوگیا جس کے تحت سات اعشاریہ نو ملین ایکڑ فٹ یعنی نو ہزار سات سو پچاس کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہونی تھی اور جس سے تین ہزار چھ سو میگاواٹ بجلی پیدا کی جانے کی گنجائش ہوگی۔‘

بقول سید علی نقوی کے کالا باغ ڈیم منصوبہ سیاست کی نظر ہوگیا ہے۔

ضیاءالحق سے لے کر یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں اس منصوبے پر قومی اتفاق رائے حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔

سنہ انیس سو نناوے میں اقتدار پر قبضہ کرنے والے جنرل مشرف کالا باغ منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے حق میں تھے اور انہوں نے سنہ دو ہزار سولہ میں اس کے مکمل ہونے کی حتمی تاریخ بھی دی تھی۔

سید علی نقوی کہتے ہیں ’سندھ اور پختونخواہ کے لوگوں کے کالاباغ ڈیم منصوبے کے خلاف اعتراضات و خدشات واجب اور حقیقی ہیں جن کو دور کرنے کے لیے پاکستان کی حکومتوں نے کبھی سنجیدگي سے کوششیں ہی نہیں کیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔