لاہور فائرنگ، سویڈش خاتون کی حالت تشویشناک

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 دسمبر 2012 ,‭ 23:00 GMT 04:00 PST
برجیٹا ایمی

سویڈن سے تعلق رکھنے والی ماہرِ تعلیم اڑتیس برس سے پاکستان میں مقیم تھیں

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی پولیس نے غیر ملکی ماہر تعلیم سسٹر برجیٹا ایمی پر فائرنگ کے مقدمے کی چھان بین شروع کر دی ہے، تاہم عینی شاہدین کی عدم دستیابی کے باعث ملزموں کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

دوسری طرف سسٹر برجیٹا کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے اور وہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج ہیں۔

پیر کو نامعلوم مسلح افراد نے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں سسٹر برجیٹا کے گھر کے باہر ان کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئیں۔

ستر سالہ برجیٹا ایمی کا تعلق سویڈن سے ہے اور وہ گزشتہ اڑتیس برسوں سے پاکستان میں مقیم ہیں اور ایک غیر سرکاری تنظیم کی مینجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے مسیحی برادری کی لڑکیوں کی تعلیم اور بہبود کے لیے کام کر رہی ہیں۔

پولیس کے مطابق سسٹر برجیٹا کے سینے میں گولی لگی ہے۔ پولیس نے غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ سلیم صادق کی درخواست پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

غیر سرکاری تنظیم کے ترجمان لیاقت قیصر نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکٹروں نے سسٹر برجیٹا کا آپریشن کیا ہے تاہم وہ ابھی تک ہوش میں نہیں آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سسٹر برجیٹا کے ہوش میں آنے پر یہ معلوم ہوسکے گا کہ ان پر فائرنگ کرنے والے کتنے افراد تھے۔

ترجمان لیاقت قیصر نے اس بات کی نفی کی کہ سسٹر برجیٹا کو کسی قسم کی کوئی دھمکی دی گئی تھی۔ ان کے بقول سسٹر برجیٹا بے ضرر خاتون ہیں جو اپنے کام سے کام رکھتی تھیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔