ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابیاں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 دسمبر 2012 ,‭ 05:42 GMT 10:42 PST

ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ نون کا پلا بھاری رہا

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے آٹھ میں سے چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جن میں قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی چار نشستیں شامل ہیں۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ق) کے حصہ میں ایک نشست آئی ہے جبکہ ایک آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں۔

ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات راجہ عامر خان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نے انھیں مات دی۔

قومی اور صوبائی اسمبلی کی آٹھ نشستوں میں سات نشستیں ارکان اسمبلی کی دوہری شہریت کے باعث خالی ہوئی تھیں ۔

دوہری شہریت کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے ایک اور مسلم لیگ (ن) کے پانچ ارکان کو اسمبلی کی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑے۔

ضمنی انتحابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) نے ’سیٹ ایڈجسٹمنٹ‘ کےتحت مشترکہ امیدوار کھڑے کیے تھے۔

گجرات سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو سات پر مسلم لیگ (ن) کے ملک حنیف اعوان کو کامیابی ملی۔ انھوں نے اپنے مدِمقابل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدوار رحمان نصیر کو شکست دی۔ اس نشست پر مسلم لیگ (ن) کے ملک جمیل اعوان دوہری شہریت کی وجہ سے نااہل ہوئے تھے جو نومنتخب رکن قومی اسمبلی کے بھائی ہیں۔

پنجاب کے ضلع ساہیوال سے مسلم لیگ (ن) کے زاہد اقبال دوبارہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ ان کے مدِمقابل آزاد امیدوار رائے حسن نواز دوسرے نمبر پر آئے جبکہ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی فرید کاٹھیہ کے بیٹے علی فرید تیسرے پر نمبر رہے۔ عام انتخابات میں اس نشست پر زاہد اقبال پیپلز پارٹی کی طرف سے کامیاب ہوئے تھے تاہم انھوں نے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا۔

  • گجرات سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو سات پر دوہری شہریت کی وجہ سے نااہل ہوئے مسلم لیگ (ن) کے ملک جمیل اعوان کی جگہ مسلم لیگ (ن) سے ہی ان کے بھائی ملک حنیف اعوان نے لے لی۔

  • جہلم سے نومنتخب رکن پنجاب اسمبلی خادم حسین نے اپنی کامیابی کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا اعلان کیا

ضمنی انتخابات میں سیالکوٹ کے صوبائی حلقہ ایک سو بائیس سے خِالی ہوئی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چودھری اکرام جیت گئے ہیں۔ انھوں نے پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات راجہ عامر خان کو شکست دی۔ یہ نشست مسلم لیگ (ن) کے چودھری اخلاف احمد کی دوہری شہریت کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔

جہلم کی صوبائی نشست پی پی چھبیس پر مسلم لیگ (ن) کے سابق رکن پنجاب اسمبلی ندیم خادم حسین کے والد خادم حسین آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے۔ ان کے مدِمقابل آزاد امیدوار راجہ افضل خان دوسرے نمبر پر آئے۔

مقامی میڈیا کے مطابق نومنتخب رکن پنجاب اسمبلی خادم حسین نے اپنی کامیابی کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔

سیالکوٹ سے پنجاب اسمبلی کی نشست ایک سو انتیس پر مسلم لیگ (ن) کے محسن اشرف نے مسلم لیگ (ق) کے انصر اقبال کو شسکت دی۔ یہ نشست نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی جمیل اشرف نے خالی کی تھی۔

گوجرانوالہ سے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 92 سے مسلم لیگ (ن) کے نواز چوہان منتخب ہوئے۔ ان کے مخالف پیپلز پارٹی کے امیدوار لالہ اسد اللہ تھے۔یہ نشست مسلم لیگ (ن) کے اشرف چوہان کی دوہری شہریت کی بناء پر خالی ہوئی تھی۔

ناروال سے پنجاب اسمبلی کی خالی ہونے والی نشست پی پی 133 پر مسلم لیگ (ق) کے عمر شریف کامیاب ہوئے ہیں۔ان کے مدِمقابل آزاد امیدوار غیاث الدین دوسرے نمبر پر رہے۔ اسی حلقے سے فارڈر بلاک کے سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر طاہر علی جاوید کے والد اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ڈاکٹر نعمت علی جاوید ووٹوں کے اعتبار سے تیسرے نمبر آئے۔

ساہیوال میں مسلم لیگ (ق) اپنی ایک صوبائی نشست سے محروم ہوگئی۔ پنجاب اسمبلی کے حلقہ دو سو چھبیس سے مسلم لیگ (ن) کے حنیف جٹ جیت گئے۔ انھوں نے اپنے مدِمقابل مسلم لیگ (ق) کے سابق رکن پنجاب اقبال لنگڑیال کی اہلیہ بیگم نسیم لنگڑیال کو مات دی۔ یہ نشست اقبال لنگڑیال کی بی اے کی ڈگری جعلی ہونے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔