مسلم لیگ (ن) فاتح، تجزیہ کار حیران

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 دسمبر 2012 ,‭ 13:41 GMT 18:41 PST
پاکستان میں ووٹنگ کی ایک فائل فوٹو

چار دسمبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کی نوبت اس لیے آئی کیونکہ دوہری شہرت کی وجہ سے بعض امیدواروں کو مستعفی ہونا پڑا تھا

پاکستان میں چار دسمبر کو قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نو نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے میدان مار لیا ہے اور دو قومی اسمبلی کی نشستوں سمیت چھ پنجاب اسمبلی کی نشستیں جیت کر کئی تجزیہ کاروں کو حیران کردیا ہے۔

ان ضمنی انتخابات کی نوبت اس لیے آئی کیونکہ دہری شہریت کی وجہ سے مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے امیدوار مستعفی ہوئے تھے، اور ان میں نصف سے زائد کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے۔

گجرات اور ساہیوال کی دو قومی اسمبلی کی نشستیں ترتیب وار مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے چھوڑیں اور دونوں ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) نے حاصل کرلیں۔

فرق صرف اتنا تھا کہ ساہیوال کی نشست جس امیدوار نے دو ہزار آٹھ میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر جیتی تھی، وہی نشست ضمنی انتخاب میں اسی امیدوار چوہدری زاہد اقبال نے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر جیتی ہے۔

اس حلقے میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار رائے نواز دوسرے نمبر پر اور تیسرے نمبر پر پیپلز پارٹی رہی۔ تحریکِ انصاف کہتی ہے کہ انہوں نے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا لیکن مسلم لیگ (ن) کہتی ہے کہ رائے حسن نواز تحریکِ انصاف کے امیدوار ہیں۔

گجرات سے قومی اسمبلی کے حلقے ایک سو سات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے امیدوار نصیر رحمٰن کو مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پچیس ہزار کی سبقت سے ہرایا ہے۔ جبکہ پنجاب کی چھ صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر ضمنی انتخاب میں چار مسلم لیگ (ن)، جس میں دو سیالکوٹ، ایک ایک ساہیوال اور گجرانوالا کی نشستیں شامل ہیں، جیتی ہیں۔ جبکہ ایک نشست مسلم لیگ (ق) نارووال، اور ایک مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار نے جہلم میں جیتی۔

مسلم لیگ (ن) جسے سیاسی تنہائی کا طعنہ دیا جاتا رہا ہے، اس نے مرکزی حکومت میں شامل دو بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدواروں کو بھی شکست دی ہے۔ جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان دونوں جماعتوں کے اتحاد کا آئندہ برس کے عام انتخابات میں بھی یہی حشر ہوگا؟ کیونکہ اس ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے جو بھی نشستیں جیتی ہیں وہ نمایاں فرق سے جیتی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کی جیت نے سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر منظور وٹو کے بطور پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر کی حیثیت کے آگے بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ لیکن منظور وٹو کہتے ہیں کہ یہ زیادہ تر نشستیں مسلم لیگ (ن) کی تھیں اور انہوں نے صوبائی حکومت کی مشینری کے زور پر جیتی ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) ان کے موقف کو مسترد کرتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) اور سیاسی تنہائی

مسلم لیگ (ن) جسے سیاسی تنہائی کا طعنہ دیا جاتا رہا ہے اس نے مرکزی حکومت کی دو بڑی اتحادی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدواروں کو بھی شکست دی ہے۔ جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان دونوں جماعتوں کے اتحاد کا آئندہ برس کے عام انتخابات میں بھی یہی حشر ہوگا؟

پاکستان جیسے ممالک میں ضمنی انتخابات کے بارے میں عام تاثر یہ ہوتا ہے کہ جس صوبے میں جس جماعت کی حکومت ہوتی ہے زیادہ تر کامیابی اُسی کو نصیب ہوتی ہے۔ لیکن اس سے قطع نظر چار دسمبر کے ضمنی انتخابات کا اگر جائزہ لیں تو اس سے کئی نئے پہلو سامنے آتے ہیں اور آئندہ برس ہونے والے عام انتخابات کے لیے کچھ نئے رجحانات کی طرف اشارہ بھی ملتا ہے۔

مثال کے طور پر خیال تھا کہ ووٹ ڈالنے کے لیے بہت زیادہ لوگ آئیں گے، لیکن اس ضمنی انتخاب میں سوائے اکا دکا حلقے کے کہیں ایسا محسوس نہیں ہوا۔ یہ بھی کہا جاتا رہا کہ نوجوان ووٹر نکلے گا، لیکن اس کی بھی کوئی خاص جھلک نظر نہیں آئی۔ لیکن یہاں تحریک انصاف کو شک کا فائدہ دینا ہوگا کیونکہ انہوں نے براہ راست کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا اور نہ ہی عمران خان نے کوئی جلسہ جلوس کیا۔

الیکشن کمیشن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ آزاد اور خودمختار ہے اور اسلحہ کی نمائش پر پابندی سمیت ضابطہ اخلاق کی شقوں پر سختی سے عمل کرائے گا۔ لیکن پنجاب میں کئی حلقوں میں کھلم کھلا اسلحہ کی نمائش ہوئی، ہوائی فائرنگ بھی ہوئی، مار کٹائی بھی ہوئی لیکن تاحال کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

سیالکوٹ میں پولیس سمیت حکومتی مشینری کے علاوہ صوبائی الیکشن کمیشن پر پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے سنگین الزامات لگائے اور پولنگ کا بائیکاٹ بھی کیا لیکن اس بارے میں بھی تاحال الیکشن کمیشن نے کوئی وضاحت یا ایکشن نہیں لیا۔

آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ آزاد اور خودمختار ہے اور اسلحہ کی نمائش پر پابندی سمیت ضابطہ اخلاق کی شقوں پر سختی سے عمل کرائے گا۔ لیکن پنجاب میں کئی حلقوں میں کھلم کھلا اسلحہ کی نمائش ہوئی، ہوائی فائرنگ بھی ہوئی، مار کٹائی بھی ہوئی لیکن تاحال کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

ادھر صوبہ سندھ کی ایک صوبائی نشست پر نوشہرو فیروز میں انتخاب ہوا جو حکمران پیپلز پارٹی نے جیت لیا ہے۔ یہ انتخاب پیپلز پارٹی کے لیے ایک ‘لٹمس ٹیسٹ’ تھا کیونکہ متنازع لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے بعد پیپلز پارٹی کو تمام اتحادی ماسوائے ایم کیو ایم، چھوڑ چکے ہیں اور قوم پرستوں سمیت سب نے پیپلز پارٹی کے خلاف اتحاد بنا رکھا ہے۔

لیکن اس کے باوجود بھی پیپلز پارٹی جیت گئی۔ اس حلقے میں سہ فریقی مقابلہ تھا، جس میں مرحوم غلام مصطفیٰ جتوئی کی نیشنل پیپلز پارٹی کے امیدوار اور حکمران پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید ظفر علی شاہ کے بھتیجے بھی میدان میں تھے۔

سہ فریقی مقابلے کا فائدہ پیپلز پارٹی کو پہنچا۔ لیکن مزے دار بات یہ ہوئی کہ ضمنی انتخاب جیتنے والے پیپلز پارٹی کے امیدوار سرفراز علی شاہ نے اس حلقے سے سنہ دو ہزار آٹھ کا انتخاب جتوئی کے پارٹی ٹکٹ پر پیپلز پارٹی کے خلاف لڑا تھا۔ اس حلقے میں بھی سرکاری مشینری کے استعمال کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

سندھ اورپنجاب دونوں میں فائرنگ، مارکٹائی، دھاندلی، حکومتی اور الیکشن کمیشن کی مشینری کے غلط استعمال کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جو ‘آزاد الیکشن کمیشن’ کے سامنے ایک سوالیہ نشان ہے۔ اگر الیکشن کمیشن نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی تو پھر آئندہ برس کے عام انتخابات بھی اس ضمنی انتخاب سے مختلف نہیں ہوں گے اور اس میں تشدد کے پہلو کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔