سندھ اسمبلی: کالا باغ ڈیم کے منصوبے کی شدید مخالفت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 6 دسمبر 2012 ,‭ 12:25 GMT 17:25 PST
سندھ اسمبلی

سندھ اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما‎‎ؤں نے کالا باغ منصوبے کو ہمیشہ کے لیے بند کرنا کا مطالبہ کیا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کی اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے کالا باغ ڈیم منصوبے کے خلاف قرارداد پیش کی ہےاور کہا ہے کہ یہ ڈیم ان کی لاشوں پر ہی بن سکتا ہے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سیاسی نظریات اور مفادات میں بٹی ہوئی ان جماعتوں کو ایک ساتھ ہونے کا موقع لاہور ہائی کورٹ نے دیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل گذشتہ ہفتے لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت جاری کی تھی کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کی روشنی میں کالا باغ ڈیم کو تعمیر کیا جائے۔

گذشتہ چار دہائیوں سے کالا باغ ڈیم کے منصوبے پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔ سندھ کے علاوہ بلوچستان اور خیر پختون خوا کی اسمبلیاں بھی اس منصوبے کے خلاف قراردادیں منظور کرچکی ہیں۔

جمعرات کو ایک بار پھر سندھ اسمبلی میں یہ قرارداد پیش کی گئی جس میں سندھ کے عوام کے ’مینڈیٹ‘ کا احترام نہ کرنے کی مذمت کی گئی اور یہ منصوبہ ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سندھ کے ضلعے بدین سے منتحب رکن ڈاکٹر سکندر مندھرو کا کہنا ہے کہ کالا باغ ڈیم منصوبے کے فنی، معاشی، معاشرتی، سیاسی، ماحولیاتی اور ارضیاتی تمام پہلوں پر بحث ہوچکی ہے اور اسے ہر لحاظ سے نامناسب منصوبہ قرار دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق یہ منصوبہ سندھ صوبے کی موت اور زندگی کا سوال ہے، اور آخر وہ کون سی قوتیں ہیں جو اس مردے کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک دوسرے رکن عمران لغاری کا کہنا تھا کہ آمریت اور اس کے اتحادیوں نے اس منصوبے کو ہمیشہ سندھ کے خلاف استعمال کیا ہے اور یہ لوگ ایسا کوئی منصوبہ قبول نہیں کریں گے جس سے اس خوشحال دھرتی کے حالات صومالیہ جیسے ہو جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم کے مسئلے پر تنازع کھڑا کر کے پاکستان کو منقسم کرنے کے لیے بنیاد ڈالی جارہی ہے اور لوگوں کے درمیان تصادم کی سازش ہو رہی ہے جس کے ذمے دار پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رکن خالد احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوری اقدار مضبوط ہو رہی ہیں اور نظام پارلیمانی جمہوریت کی طرف جا رہا ہے تو ایسے وقت میں کیوں اس منصوبے کو کیوں چھیڑا گیا ہے جس سے تفریق پیدا ہوسکتی ہے۔

انہوں نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب عدالتیں ان لوگوں کو اعتماد میں لیے بغیر جنہوں نے یہ پورا پارلیمانی نظام ان کو دیا ہے اس طرح کے متعصبانہ فیصلہ دینا شروع کریں گی تو یہ پاکستان، جمہوریت اور جمہوری اقدار کی بڑی بدقسمتی ہوگی۔

پیر پگاڑا کی جماعت مسلم لیگ فنکشنل نے ماضی میں پرویز مشرف کے دور حکومت میں کالاباغ ڈیم کی حمایت کی تھی مگر موجودہ پیر پگاڑا کی قیادت میں پالیسی میں تبدیلی آئی ہے اور مسلم لیگ فنکشنل نے سندھ اسمبلی میں اس منصوبے کی مخالفت کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔