شعیب سڈل کمیشن تحلیل، ’رپورٹ منظرِ عام پر لائی جائے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 دسمبر 2012 ,‭ 08:01 GMT 13:01 PST

پاکستان کی سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ارسلان افتخار کیس کی تحقیقات کے لیے تشکیل کردہ شعیب سڈل کمیشن کو تحلیل کردیا ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا دو رکنی بینچ ملک ریاض اور چیف جسٹس کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان افتخار کے درمیان مبینہ طور پر کروڑوں روپے کے لین دین کے معاملے کی سماعت کر رہا ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حکم دیا ہے کہ شعیب سڈل کمیشن کی تیار کردہ رپورٹ منظرِ عام پر لائی جائے۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ یہ دو افراد کے درمیان انفرادی معاملہ ہے اور اس میں قومی خزانے کا ضیاع نہیں ہوا۔

اس سے پہلے عدالت نے قومی احتساب بیورو کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کے بارے میں کہا تھا جس پر چیف جسٹس کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان افتخار نے اعتراضات اُٹھائے تھے۔

اس ضمن میں سپریم کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی تھی جس پر عدالت نے تیئس اگست کو اس معاملے کی تحققیات نیب سے لیکر ٹیکس معاملات کے بارے میں وفاقی محتسب ڈاکٹر شعیب سڈل کی سربراہی میں ایک رکنی کمیشن قائم کردیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اس معاملے کا منظر عام پر آنے کےبعد سپریم کورٹ کی حثیت پر سوال اُٹھ رہے تھے جس کی بنا پر اس کا از خودنوٹس لیا گیا تھا۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس معاملے کو مزید تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ معاملہ دو افراد کے درمیان ہے اور وہ اس کو کسی بھی فورم پر لے کر جا سکتے ہیں۔

عدالتی فیصلے کے بعد ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم پہلے دن سے اس کمیشن کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھاتے رہے۔ ہم کمیشن کو آزادانہ تسلیم نہیں کرتے تھے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس کمیشن کو کسی طور پر بھی یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ اُن کے موکل یا بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کرے۔

یاد رہے کہ ملک ریاض نے الزام عائد کیا تھا کہ اُنہوں نے سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف مقدمات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان افتخار کو نقدی اور اُن کے بیرون ممالک اخراجات کی مد میں بتیس کروڑ روپے سے زائد کی رقم خرچ کی تھی۔

ڈاکٹر ارسلان افتخار نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ اُن پر لگائے گئے تمام الزامات بےبنیاد ہیں اور وہ ملک ریاض کے خلاف ہتک عزت کادعوی دائر کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ اُنہوں نے کھبی ٹیکس چوری نہیں کیا اور باقاعدگی سے ٹیکس جمع کرواتے رہے ہیں۔

شعیب سڈل کمیشن کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں ملک ریاض پر ایک راب جبکہ ارسلان افتخار پر پانچ کروڑ روپے سے زائد کا انکم ٹیکس چوری کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ملک ریاض نے سنہ دوہزار سات سے لیکر دو ہزار گیارہ تک اپنے کاروبار میں دس کروڑوں روپے کا نقصان ظاہر کیا ہے اور ایسے میں ارسلان افتخار کے غیر ملکی دوروں پر اور اُنہیں کروڑں روپے کی رقم ادا کرنا ایک سوالیہ نشان ہے۔

اس رپورٹ میں وزیر داخلہ رحمان ملک کی طرف سے کمیشن کے ساتھ عدم تعاون کا بھی زکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اُنہوں نے اس کمیشن کو امور کی انجام دہی میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔