پاکستانی اور بھارتی فوج میں گولہ باری کا تبادلہ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 دسمبر 2012 ,‭ 18:22 GMT 23:22 PST

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے نتیجے میں ایک شخص کے ہلاک ہونے اور دو عام شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان فائرنگ کا یہ تبادلہ جنوبی ضلع راولاکوٹ کے ہجیرہ سیکٹر میں ہورہا ہے۔

لائن آف کنٹرول سے چند سو گز کے فاصلے پر واقع مقامی پولیس چوکی کے اہلکار اشتیاق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ہندوستان کی فوج نے اتوار کو مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے ان کے بقول بغیر کسی اشتعال کے فائرنگ شروع کی جو وقفے وقفے سے جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہندوستان کی فوج فائرنگ میں مارٹر اور چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال کررہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہیجرہ سیکٹر میں مدارپور، بٹل، اور سہڑا کےدیہات میں گولے گررہے ہیں۔

پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں تین عام شہری زخمی ہوئے تھے جن میں سے ایک مقامی فوجی ہسپتال میں دم توڑ گیا۔انہوں نے کہا کہ ابھی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں لیکن گولہ باری کی وجہ سے معلومات حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مقامی آباد میں گھروں میں محصور ہوکر رہ گئی ہے اور ان علاقوں کی طرف جانے پر سٹرکوں پر ٹریفک معطل ہے۔

جب پولیس اہلکار سے ٹیلیفون پر بات ہو رہی تھی تو پس منظر میں گولے داغے جانے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ان کی چوکی سے کوئی تین سو گز پر گولے گر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوج بھی جوابی کارروائی کررہی ہے اور وہ بھی مارٹر اور چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔

لائن آف کنٹرول کے قریبی دیہات ککوٹہ کے ایک مقامی نوجوان راجہ سہراب نے ٹیلیفون پر بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ’ہم کرکٹ کھیل رہے تھے کہ فائرنگ شروع ہوئی تو ہم نے موٹرسائیکل پر بھاگ کر جان بچائی‘۔

راجہ سہراب کا کہنا ہے کہ وہ جس مقام پر کرکٹ کھیل رہے تھے وہ لائن آگ کنٹرول کے قریب واقع ہے۔

’پہلے بھارتی فوج نے فائرنگ شروع کی اور پہلے بیس منٹ بھارتی فوج نے شدید گولہ باری کی اس کے بعد ہماری (پاکستان کی فوج کی) طرف سے بھی فائرنگ شروع کی گئی‘۔

فائر بندی کا معاہدہ

بھارت اور پاکستان کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد نومبر سنہ دو ہزار تین میں متنازعہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا جو اب تک قائم ہے لیکن اس دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں تاہم فائرنگ کا تبادلہ اکثر دونوں ممالک کی افواج کی چوکیوں تک محدود رہا۔

اس کے نتیجے میں دونوں اطراف سے کئی فوجی ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں البتہ نو برسوں کے دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر حکام کے مطابق مبینہ فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے دونوں طرف سے کئی عام شہری ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی نوجوان کا کہنا ہے کہ وقفے وقفے سے گولہ باری کا تبادلہ ہورہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گولہ باری کے تبادلے کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب بھارتی فوج چوکی کے قریب آگ لگی ہوئی ہے۔

راجہ سہراب جب ٹیلفیون پر بات کررہے تھے تو پس منظر میں مسلسل گولے داغے جانے کی آوازیں سنائی دی رہی تھیں۔

لیکن ابھی تک ہندوستان اور پاکستان کے فوجی حکام نے اس واقعہ پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ آیا فائرنگ کے تبادلے میں دونوں طرف کی افواج کو کوئی نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد نومبر سنہ دو ہزار تین میں متنازعہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا جو اب تک قائم ہے۔

لیکن اس دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں تاہم فائرنگ کا تبادلہ اکثر دونوں ممالک کی افواج کی چوکیوں تک محدود رہا۔

اس کے نتیجے میں دونوں اطراف سے کئی فوجی ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں البتہ نو برسوں کے دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر حکام کے مطابق مبینہ فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے دونوں طرف سے کئی عام شہری ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

دونوں ممالک ایک دوسرے پر فائر بندی کی خلاف ورزی کرنے اور فائرنگ شروع کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان فائر بندی کے معاہدے سے پہلے لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ معمول کی بات تھی۔

اس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب سینکڑوں شہری ہلاک و زخمی ہوئے یا پھر عمر بھر کے لیے معذور ہوئے اور لوگوں کی املاک تباہ ہوئیں یا ان کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

بھارت اکثر پاکستان پر عسکریت پسندوں کو تربیت دینے، اسلحہ فراہم کرنے اور انھیں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل کرانے کے لیے فائرنگ کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے لیکن پاکستان اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے ۔پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ وہ کشمیریوں کی صرف اخلاقی، سفارتی اور سیاسی مدد کرتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔