روپ متی کا ویزا

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 دسمبر 2012 ,‭ 11:27 GMT 16:27 PST

اکتیس دسمبر کے انتظار میں الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ کچھ اور بدلے نہ بدلے، سال ضرور بدلے گا۔ سنا ہے کہ سب ٹھیک رہا تو بھارت اور پاکستان کے درمیان کم ازکم یہ سردیاں گرما گرمی بڑھانے کے بجائے گرمجوشی میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔

بادل دیکھ کر گھڑے پھوڑنے والے کہتے ہیں کہ نئی ویزا پالیسی کے تحت بچھڑے ہوئے خاندانوں کے لیے بڑھیں نہ بڑھیں، دونوں ممالک کے تاجروں کے لیے سفری سہولتیں ضرور بڑھ گئی ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت شہر بیچے اور خریدے جائیں گے۔ جس کی اِتنی آمدنی ہوگی اسے پانچ شہروں کا پولیس رپورٹنگ والا ویزا ملے گا اور جس کی اتنی آمدنی ہوگی اسے دس شہروں کا ملٹی پل پولیس رپورٹنگ ایگزیمپٹڈ ویزا ملے گا اور جو سفید پوش ہوگا وہ ہمیشہ کی طرح ویزا افسر کے رحم و کرم پر ہوگا۔

دوسری اچھی خبر یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین آزاد تجارت کی راہ میں حائل نیگیٹو لسٹ اگر اکتیس دسمبر تک نہیں تو اپریل مئی تک ضرور ختم ہوجائےگی۔ تو جس طرح واہگہ کے راستے پیاز، ٹماٹر، چینی، گندم، پارلیمانی وفود، فیض احمد فیض کا ’ہم دیکھیں گے‘ گانے والے مشعل بردار آ جاسکتے ہیں، اسی طرح کتابوں، رسالوں اور اخبارات سے بھرے ٹرک بھی آجا سکیں گے؟ کیا مجوزہ منسوخ لسٹ میں بھارت و پاکستان کے خبری چینلز کی نشریات آر پار جانے پر لاگو اعلانیہ و غیر اعلانیہ پابندی کا خاتمہ بھی شامل ہوگا؟

کیا تھیٹر کی منڈلیاں، گلوکاروں کے طائفے، اساتذہ، مصنفین، سائنسدانوں اور طلبہ کی بلارکاوٹ آوت جاوت بھی مثبت فہرست میں شامل ہو گی؟

ان سوالات کا سبب یہ ہے کہ حال ہی میں پاکستانی اور ہندوستانی گلوکاروں کا ایک مقابلہ دوبئی میں منعقد ہوا کیونکہ منتظمین ویزے کے حصول میں درپیش ذلت سے بچنا چاہتے تھے۔

ابھی ابھی کراچی میں جو پانچویں بین الاقوامی اردو کانفرنس ختم ہوئی اس کے لیے بھارت سے آنے کے خواہش مند سات اسکالرز میں سے صرف ایک یعنی ڈاکٹر شمیم حنفی کو ہی ویزا مل سکا۔

اور اس وقت کراچی میں جو آٹھواں بین القوامی کتاب میلہ جاری ہے اس میں پاکستانی ناشروں کے بعد سب سے بڑی شرکت بھارتی ناشروں کی ہی ہونی تھی۔ مگر اکیس ناشروں میں سے سات کو ہی ویزا لینے میں کامیاب ہو سکے۔ نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا کی کتابیں تو آ گئیں، لیکن کتابیں بھیجنے والے دلی میں ہی اٹک گئے۔ چنانچہ اب ان کے سٹال کا انتظام پاکستان کی نیشنل بک فاؤنڈیشن والے دیکھ رہے ہیں۔

درخواست کا حوصلہ نہیں

روپ متی مرنے سے پہلے ایک دفعہ ممبئی جانا چاہتی ہے۔ اس کے پاس پاسپورٹ بھی ہے۔اس نے چند ہزار روپے بھی جوڑ لیے ہیں۔ مگر تڑپنے پھڑکنے کے باوجود ویزے کی درخواست دینے کا حوصلہ نہیں۔۔۔

کراچی پریس کلب کے خاکروب گیان چند کی پینسٹھ سالہ ماں روپ متی کا آدھا خاندان تقسیم کے بعد ممبئی چلا گیا تھا۔ روپ متی مرنے سے پہلے ایک دفعہ ممبئی جانا چاہتی ہے۔ اس کے پاس پاسپورٹ بھی ہے۔اس نے چند ہزار روپے بھی جوڑ لیے ہیں۔ مگر تڑپنے پھڑکنے کے باوجود ویزے کی درخواست دینے کا حوصلہ نہیں۔۔۔ میں نے پوچھا کیوں؟ کہنے لگی پہلی دفعہ ویزا لینے کے لیے اسلام آباد جانا پڑے گا۔ سارے پیسے تو وہیں ختم ہوجائیں گے۔ ویزا مل بھی گیا تو ممبئی جانے کا کرایہ کہاں سے لاؤں گی؟

آپ لاکھ مشعلیں جلاتے رہیں، کبوتروں کے گلے میں باندھ کر آر پار محبت کے پیغامات بھیجتے رہیں۔ مشترکہ ورثے، تاریخ و تہذیب کے نغمے گاتے رہیں۔ کلے سے کلہ ملا کر ہوائی بوسے اچھالتے رہیں، لیکن آخری فیصلہ تو ساؤنڈ پروف شیشے کی کھڑکی کے دوسری جانب بیٹھے ویزا افسر کو ہی کرنا ہے جس کے ایک ہاتھ میں وزارتِ داخلہ، دوسرے ہاتھ میں وزارتِ خارجہ اور گلے میں انٹیلی جینس اداروں کی ڈوری بندھی ہوئی ہے۔آنکھوں پر اعلانیہ و غیر اعلانیہ ہدایات کا سیاہ چشمہ ہے اور کانوں میں مسخ تاریخ کی روئی ٹھنسی ہے۔

اے ڈیڑھ ارب انسانوں کے پالیسی ساز کلرکی سیاستدانو۔۔۔ دہشت گردوں کو ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔