صدارتی ریفرنس، گیارہ رکنی بینچ کی استدعا مسترد

آخری وقت اشاعت:  پير 10 دسمبر 2012 ,‭ 13:56 GMT 18:56 PST

’پہلے تو اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ اس ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات عوامی اہمیت کے حامل ہیں یا نہیں‘

سپریم کورٹ نے اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق صدر آصف علی زرداری کی طرف سے بھیجے گئے ریفرنس کی سماعت کے لیے گیارہ رکنی فُل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے حکومت کی درخواست پر ہی پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

عدالت نے اس صدارتی ریفرنس کو سماعت کے لیے منظٌور کرلیا اور اس ضمن میں بائیس اور تئیس اکتوبر کو جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔

جسٹس خلجی عارف حسین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس کی ابتدائی سماعت کی۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق صدر کے وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ چونکہ اس ریفرنس میں صدر نے اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق سپریم کورٹ سے رائے مانگی ہے اس لیے اُن گیارہ ججز پر مشتمل فُل کورٹ بینچ بنایا جائے جو اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی کے لیے قائم کردہ جوڈشیل کمیشن کا حصہ نہیں ہیں۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پہلے تو اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ اس ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات عوامی اہمیت کے حامل ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ریفرنس میں پوچھے گئے متعدد سوالات کا جواب آئین کے آرٹیکل 175 اے میں درج ہے جو اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی سے متعلق ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس آرٹیکل میں جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کے اختیارات اور اُن کے کردار کا بھی ذکر ہے۔

صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ ریاض محمد خان اور انور کاسی نے ایک ہی دن میں بحثیت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کی حثیت سے حلف اُٹھایا تھا اور قانون کے مطابق جس جج کی عمر زیادہ ہوگی اُسے سینیئر تصور کیا جائے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ وزارت قانون کی نظر میں ریاض محمد خان سینئیر جج ہیں جبکہ جوڈیشل کمیشن نے انور کاسی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج مقرر کرنے کی سفارش کی ہے جس کی منظوری پارلیمانی کمیٹی نے بھی دی ہے۔

وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ انور کاسی جونئیر جج ہیں اس لیے اُنہیں بائیس اکتوبر کو جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں شرکت نہیں کرنی چاہیے تھی۔

عدالت نے جسٹس ریاض اور جسٹس انور کاسی کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی طلب کرلیا ہے جبکہ اٹارنی جنرل عرفان قادر جو کہ جوڈیشل کمشن کے رکن بھی ہیں، اس صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران بیٹھنے یا نہ بیٹھنے کا فیصلہ آئندہ سماعت بارہ دسمبر کو کیا جائے گا۔

سماعت کے دوران جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد نہ کرنے کے خلاف دائر کی گئی درخواست کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کا اس صدارتی ریفرنس کا مقصد شہروں کے لیے انصاف کے حصول میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ عملی طور پر بند ہوچکی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔