انسانی حقوق کےعالمی دن پر’ملالہ فنڈ‘ کا قیام

آخری وقت اشاعت:  پير 10 دسمبر 2012 ,‭ 13:41 GMT 18:41 PST

پاکستانی صدر آصف علی زرداری ملالہ یوسفزئی پر ہونے والی کانفرنس کے لیے پیرس گئے ہیں

انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر پیرس میں پاکستان اور یونیسکو کے زیرِ اہتمام ہونے والی کانفرنس میں دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے’ملالہ فنڈ‘ قائم کرنے کا اعلان کیاگیا ہے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے پیرس میں یونیسکو کے دفاتر میں ہونے والی کانفرنس میں ملالہ فنڈ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ ترقی پسند پاکستان کی علامت ہے۔

کلِک ملالہ بچی سے علامت تک

کلِک گل مکئی پر حملے کے بعد مینگورہ سکتے میں

اس قبل فرانس کی پارلیمان کے ڈیڑھ سو اراکین نے اس یاداشت پر دستخط کیے جس میں ملالہ یوسفزئی کو سنہ دو ہزار تیرہ کے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

سوات سے تعلق رکھنے والی چودہ سالہ ملالہ یوسفزئی نو اکتوبر کو طالبان کے حملے میں شدید زخمی ہوگئی تھیں۔ ملالہ یوسفزئی اس وقت برطانیہ کے شہر برمنگھم میں زیر علاج ہیں۔

دنیا بھر سے ایک لاکھ سے زائد افراد اس آن لائن پٹیشن پر دستخط کر چکے ہیں جس میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس کانفرنس کا اہتمام انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقعے پر کیاگیا جس میں اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی امدادی اور دوسرے نجی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پاکستان اور یونیسکو کے زیراہتمام ہونے اس کانفرنس کا عنوان تھا ’ملالہ کی حمایت کریں، لڑکیوں کی تعلیم کی حمایت کریں‘۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی پر حملہ کرنے والی طاقتیں پاکستان کو اندھیروں میں لے جانا چاہتی ہیں۔

پاکستانی صدر نے کہا جس سوچ نے ملالہ یوسفزئی کو نشانہ بنایا ہے اس سوچ کو شکست دینے کے لیے تعلیم کے برابر مواقع ہی بہترین حکمت عملی ہے۔

پاکستان صدر نے کہا کہ دو روز قبل برطانیہ میں زیر علاج ملالہ یوسفزئی سے ہسپتال میں ملے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں کہ ملالہ یوسفزئی اطمینان بخش طریقے سے صحت یاب ہو رہی ہیں۔

کانفرنس میں ملالہ یوسفزئی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔

یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل ایرینا بوکوا نے اس موقع پر کہا کہ نو اکتوبر کو ملالہ یوسفزئی پر حملے نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے نے ہمیں یہ یاد دہانی کرائی ہے کہ لڑکیوں کے تعلیم کے حق کو تسلیم کروانا اہم ہے اور اب یہ یونیسکو کی ترجیحات میں سب سے نمایاں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔