خفیہ ادارے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں؟

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 02:46 GMT 07:46 PST

’شہریوں کوگرفتار کرنے کا حق فوج یا اس کے خفیہ اداروں کو حاصل نہیں‘

پاکستان میں ایسے کئی لوگ ہیں جن کا نام صرف لاپتہ افراد کی فہرست میں زندہ ہے مگر وہ خود زندہ ہیں یا نہیں اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا یا اگر کوئی جانتا بھی ہے تو بتاتا نہیں۔

ان افراد کے اہلِ خانہ ان گمشدگیوں کے لیے خفیہ اداروں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ پاکستان کے سیاسی و سماجی حلقوں میں بھی اس معاملے میں ایجنسیوں کے کردار پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستانی فوج کے قانونی شعبے جیگ برانچ کے سابق اسسٹنٹ جج اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی لاپتہ افراد سے متعلق کمیٹی کے معاون کرنل ریٹائرڈ امام کا کہنا ہے کہ ’خفیہ ادارے اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس کسی شہری کو اس طرح گرفتار کرنے، تحقیقات کرنے یا پھر اس پر مقدمہ چلانے کا قانونی اختیار نہیں ہے‘۔

تاہم پاکستان کا آرمی ایکٹ فوج کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی شہری کو جس پر دہشت گردی سے نقصان پہنچانے کا خدشہ ہو،گرفتار کر سکتی ہے۔

اس پر کرنل ریٹائرڈ امام کا کہنا تھا کہ ’ایکٹ میں باقاعدہ طریقۂ کار دیا گیا ہے جس کے مطابق اگر کسی شخص کو فوج یا ایجنسی حراست میں لے تو اسے بتایا جائے کہ کس جرم میں اسے گرفتار کیا گیا ہے۔ جس کے بعد آٹھ دن کے اندر اس کا ٹرائل شروع کیا جائے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو متعلقہ اہلکار پر لازم ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ افسران کو تحریری طور پر بتائے کہ آخر ٹرائل شروع کیوں نہیں ہوا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں فوجی اہلکار کے خلاف کارروائی کا ذکر بھی قانون میں موجود ہے مگر اس ملک میں فوج سے کوئی پوچھ گچھ کیسے کر سکتا ہے؟‘

ماہر قانون احمر بلال صوفی بھی اس خیال سے متفق ہیں کہ شہریوں کو گرفتار کرنے کا حق فوج یا اس کے خفیہ اداروں کو حاصل نہیں اور وہ وفاقی کابینہ کی جانب سے منظور شدہ انسداد دہشت گردی کے مجوزہ ترمیمی بل فیئر ٹرائل دو ہزار بارہ کو خوش آئند سمجھتے ہیں۔

اس بل کے تحت خفیہ اداروں کے تحقیقاتی اختیارات میں اضافہ ہو جائے گا۔ انہیں اختیار حاصل ہو گا کہ وہ دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے نہ صرف شہریوں کے فون کال ریکارڈ کر سکتے ہیں بلکہ ایس ایم ایس ،ای میلز کو بھی عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کر سکتی ہیں۔

اس قانون کے تحت سکیورٹی ادارے عدالت کی جانب سے وارنٹ کی بنیاد پر کسی بھی شہری کو تحقیقات کے لیے چھ ماہ تک اپنی حراست میں رکھ سکتے ہیں۔

"آرمی ایکٹ میں باقاعدہ طریقۂ کار دیا گیا جس کے مطابق اگر کسی شخص کو فوج یا ایجنسی حراست میں لے تو اسے بتایا جائے کہ کس جرم میں اسے گرفتار کیا گیا ہے۔ جس کے بعد آٹھ دن کے اندر اس کا ٹرائل شروع کیا جائے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو متعلقہ اہلکارپر لازم ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ افسران کو تحریری طور پر بتائے کہ آخر ٹرائل شروع کیوں نہیں ہوا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں فوجی اہلکار کے خلاف کارروائی کا ذکر بھی قانون میں موجود ہے مگر اس ملک میں فوج سے کوئی پوچھ گچھ کیسے کر سکتا ہے؟"

کرنل(ر) امام

بی بی سی کو اس قانون کی افادیت بتاتے ہوئے احمر بلال صوفی نے کہا ’موجودہ قانون کے مطابق دہشت گردی کا واقعہ رونما ہونے کے بعد ہی اس کی تحقیقات کا عمل شروع ہوتا ہے لیکن اس مسودے کے تحت اب ای میلز جیسے مواد کو بھی ریاستی تحقیقاتی ادارے ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کر سکیں گے یا پھر اس کی بنیاد پر کسی کو حراست میں لینے کا انہیں قانونی حق مل جائے گا‘۔

پاکستان میں قوانین کی موجودگی کے باوجود بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں تو کیا اس طرح کا قانون شہری آزادی کو مجروح کیے بغیر غیر قانونی گرفتاریاں روک پائے گا یہ پھر اسے محض قانونی چادر کے طور پر استعمال کیا جائے گا اس سوال کا جواب تو فیئر ٹرائل کے قانون کی سینیٹ سے منظوری اور نفاذ کے بعد ہی مل سکے گا۔

کرنل ریٹائرڈ امام کے مطابق خفیہ اداروں کے ان مبینہ غیر قانونی اقدامات کے نتیجے میں جنم لینے والی انتقامی فضا نے ملک میں دہشتگردوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے ایک دہشت گرد جس پر سکیورٹی اہلکاروں سمیت متعدد افراد کے قتل کا الزام تھا سے پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تو اس کا جواب تھا کہ ’میرے سارے گھر والوں کو خفیہ ادارے ایک ایک کر کے اٹھا لے گئے۔ آج تک ان کا پتہ نہیں چلا اور جب میری ہر کوشش ناکام ہوگئی مگر کہیں سے کوئی جواب نہیں آیا تو میں نے خود ملکی اداروں سے بدلہ لینے کی ٹھانی۔ مجھے دہشت گرد بنانے والی یہی ریاست ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔