’عدلیہ نرمی برتتی ہے اور قانون بھی موجود نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 دسمبر 2012 ,‭ 09:22 GMT 14:22 PST

سزاؤں سے دہشت گردوں کے ارادے کمزور ہوں گے: میاں افتخار

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث بیشتر افراد کو سزائیں نہ ملنے کی وجوہات میں عدالتوں کا نرم رویہ اور حکومت کی جانب سے قانون سازی میں ناکامی ہے۔

پشاور میں بی بی سی اردو سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کو سزا نہ ملنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کے واقعات میں ملوث بیشتر خودکش حملہ آور بچے ہوتے ہیں اور اب اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچے اگر گرفتار بھی کر لیے جائیں تو ان کے ساتھ بچوں کی طرح کا سلوک کرنا پڑتا ہے‘۔

ان کا موقف تھا کہ یہ بچے نہ صرف عدالتوں کی نرمی سے بلکہ انسانی حقوق کے تناظر میں اور حکومت کی جانب سے قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے سزا سے بچ جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ عدالت سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر کوئی خودکش جیکٹ کے ساتھ کسی کیمرے کے سامنےگرفتار ہو جاتا ہے تو اسے پھانسی کی سزا دی جائے اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو کیونکہ ملزم قتل کا ارادہ کر چکا ہوتا ہے تو اسے کم سے کم عمر قید کی سزا تو دی جا سکتی ہے۔

یاد رہے چند ہفتے پہلے یہاں پشاور میں پولیس نے ایک خود کش حملہ آور کو اس کے ساتھی کے ہمراہ گرفتار کر لیا تھا اور بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکاروں نے حملہ آور کی بارود سے بھری جیکٹ اتار کر اسے ناکارہ کر دیا تھا۔ یہ تمام مناظر یہاں نجی چینلز پر براہ راست دکھائے گئے تھے۔

میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد کو سزا دے کر اس طرح کے مزید واقعات سے بچا جا سکتا ہے اور اس سے دہشت گردوں کے ارادے کمزور ہوں گے۔

صوبائی وزیر اطلاعات کے مطابق سنہ دو ہزار نو سے اب تک دہشت گردوں کے حملوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور اب تک سکیورٹی اہلکاروں نے چار سو پچھہتر حملے پسپا کیے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ پولیس کو مزید فعال کر دیا گیا ہے اور اب خیبر پختونخواہ حکومت کو فوج یا ایف سی کو طلب کرنے کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ اس صوبے میں پولیس ایک سیمی فوج بن چکی ہے۔

خیال رہے کہ حکومتی دعوؤں کے باوجود خیبر پختونخواہ کے مختلف شہروں میں پولیس پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور دو ماہ میں دو سپرنٹنڈنٹ پولیس افسران سمیت متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔