ڈیرہ اسماعیل خان کے ای ڈی او ہیلتھ لاپتہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 دسمبر 2012 ,‭ 10:34 GMT 15:34 PST

پولیس نے لاپتہ افسر کی تلاش شروع کر دی ہے۔(فائل فوٹو)

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل کے ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسر پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان جاتے ہوئے راستے میں لاپتہ ہو گئے ہیں۔

ادھر پشاور ہائی کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ گومل زام ڈیم کے مغوی اہلکاروں کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے چاہے اس کے لیے انھیں مکمل آپریشن ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے محکمہ صحت کے ایک اہلکار شاہ جہان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ای ڈی او صحت ڈاکٹر عاشق سلیم سرکاری گاڑی میں ڈرائیور محمد جاوید اور ایک ہیلتھ ٹیکنیشن عطاءاللہ کے ہمراہ پشاور سے آ رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ پشاور سے منگل کو شام گئے روانہ ہوئے تھے اور گھر والوں کے ساتھ ڈاکٹر عاشق سلیم کا رابطہ رات نو بجے کے لگ بھگ ہوا تھا ۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت وہ کوہاٹ سرنگ سے نکل چکے تھے جس کے بعد ان کا رابطہ کسی سے نہیں ہو پایا۔

پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان لگ بھگ چھ گھنٹے کا سفر ہے ۔ پشاور کے بعد قبائلی علاقہ درہ آدرم خیل ہے جس کے بعد کوہاٹ کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ کوہاٹ اور اس کے بعد دیگر اضلاع جیسے بنوں اور لکی مروت میں پولیس کو اطلاع کر دی گئی ہے لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ ڈاکٹر عاشق سلیم کہاں ہیں۔

کوہاٹ سے گزشتہ کچھ عرصہ میں اغوا کی وارداتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ چند روز پہلے کوہاٹ کی ایک لیڈی ڈاکٹر کے شوہر اور دو سرکاری اہلکاروں کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا لیکن چند روز میں انھیں بازیاب کرا لیا گیا تھا۔

کچھ عرصہ پہلے کوہاٹ کے علاقے سے ہی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر ، پروفیسر اور گیس کمپنی کے انجینیئرز اور اہلکاروں کو بھی اغوا کیا گیا تھا جنھیں بازیاب کرا لیا گیا تھا۔

"کوہاٹ سے گزشتہ کچھ عرصہ میں اغوا کی وارداتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے تاہم ایسے افراد کی بازیابی بھی عمل میں آئی ہے۔ چند روز پہلے کوہاٹ کی ایک لیڈی ڈاکٹر کے شوہر اور دو سرکاری اہلکاروں کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا جبکہ کچھ عرصہ پہلے کوہاٹ کے علاقے سے ہی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر ، پروفیسر اور گیس کمپنی کے انجینیئرز اور اہلکاروں کو بھی اغوا کیا گیا تھا جنھیں بازیاب کروایا جا چکا ہے"

عزیز اللہ خان، پشاور

ادھر پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان نے بدھ کو گورنر خیبر پختونخواہ ، وزارت داخلہ اور فاٹا کے حکام سے کہا ہے کہ اگست کے مہینے میں اغوا ہونے والے گومل زام ڈیم کےملازمین کو ایک ہفتے کے اندر اندر بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔

پشاور ہائی کورٹ میں دو رکنی بینچ کی سربراہی ہوئے چیف جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ فوج اور نیم فوجی دستوں کی موجودگی میں سرکاری ملازمین کو اغوا کر لینا سوچ سے باہر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان ملازمین کو بازیاب کرایا جائے چاہے اس کے لیے مکمل فوجی آپریشن ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

ان مغوی ملازمین کے رشتہ داروں نے تمام اعلیٰ حکام سے رابطے کیے تھے تاکہ ان مغویوں کو بازیاب کرایا جائے۔

گومل زام ڈیم کے نو ملازمین کو اگست کے مہینے میں اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ جنوبی وزیرستان کے قریب گوم زام ڈیم کے منصوبے کے جگہ سے عید الفطر منانے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان کی جانب آ رہے تھے۔

ان ملازمین کی دو ویڈیو جاری کی گئی ہیں۔ مغوی ملازمین میں سے ایک سکیورٹی اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ تحریک طالبان نے ان کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔