’پانچ لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 دسمبر 2012 ,‭ 13:41 GMT 18:41 PST

حکومت اور شوگر ملز ایسوسی ایشن کے درمیان کافی عرصے سے تنازع چل رہا تھا جس سے کاشتکاروں کو نقصان ہو رہا تھا

پاکستان کی وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی بنانے والی ملوں کے مالکان کو پانچ لاکھ ٹن مزید چینی برآمد کرنے کی منظوری دیتے ہوئے ٹریڈنگ کارپوریشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ پانچ لاکھ ٹن چینی سٹاک میں رکھے تاکہ کوئی بحران پیدا نہ ہو۔

چینی برآمد کرنے کے معاملے پر حکومت اور شوگر ملز ایسوسی ایشن کے درمیان کافی عرصے سے تنازع چل رہا تھا اور جس کی وجہ سے شوگر مل مالکان چینی کی تیاری روکے ہوئے تھے جس سے کاشتکاروں کو نقصان ہو رہا تھا۔

وزارتِ تجارت کی جانب سے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھیجی جانے والی سمری میں سفارش کی گئی ہے کہ پانچ لاکھ ٹن مزید چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔

واضح رہے کہ حکومت پہلے ہی شوگر مل مالکان کو سات لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دے چکی ہے تاہم وہ حکومت سے پندرہ لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے سات لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت ملنے کے باوجود شوگر مل مالکان بمشکل ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی برآمد کر سکے ہیں۔

بی بی سی کے پاس دستیاب وزارت تجارت کی سمری میں کہا گیا ہے کہ ملک میں پندرہ لاکھ ٹن چینی کا سٹاک موجود ہے اور گنے کی تیار فصل سے مزید سینتالیس لاکھ ٹن چینی تیار ہوگی جس سے ملک میں سنہ دو ہزار بارہ اور تیرہ کے دوران انسٹھ لاکھ ٹن چینی موجودہ ہوگی۔

پاکستان میں چینی کی سالانہ مانگ بیالیس لاکھ ٹن ہے اور اس اعتبار سے ملک میں سترہ لاکھ ٹن اضافی چینی موجود ہوگی۔ سمری کے مطابق چینی برآمد کرنے کی منظوری کے نوے روز کے اندر چینی برآمد کرنی ہوگی۔

"بی بی سی کے پاس دستیاب وزارت تجارت کی سمری میں کہا گیا ہے کہ ملک میں پندرہ لاکھ ٹن چینی کا سٹاک موجود ہے اور گنے کی تیار فصل سے مزید سینتالیس لاکھ ٹن چینی تیار ہوگی جس سے ملک میں سنہ دو ہزار بارہ اور تیرہ کے دوران انسٹھ لاکھ ٹن چینی موجودہ ہوگی۔"

اعجاز مہر، بی بی سی اردو اسلام آباد

ماہرین کہتے ہیں کہ مٹھاس کے اعتبار سے پاکستانی چینی دنیا میں اچھی کوالٹی کی چینی مانی جاتی ہے اور اس وقت دنیا میں پاکستانی چینی کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ گذشتہ روز سنگاپور میں چینی کی منڈی میں پاکستانی چینی فی ٹن پانچ سو تیس ڈالر میں فروخت ہوئی جبکہ بھارت، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کی چینی کی قیمت پاکستانی چینی سے کم تھی۔

وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی صدارت میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت تجارت کی جانب سے پیش کردہ ایک سمری کے تحت ٹریڈنگ کارپوریشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شوگر ملوں سے تین لاکھ تیس ہزار ٹن چینی خریدے۔

وزارت تجارت نے سفارش کی تھی کہ ٹریڈنگ کارپوریشن کے پاس چینی کے ذخیرے کی حد پانچ لاکھ سے بڑھا کر دس لاکھ کی جائے لیکن کمیٹی نے اس بات کی منظوری نہیں دی۔

کمیٹی نے وزارت تجارت اور صنعتی پیداوار کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملک میں چینی کے ذخائر اور برآمدات کی نگرانی کریں اور کمیٹی کے ہر اجلاس میں اعداد و شمار پیش کریں۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے قادر پور گیس فیلڈ کے لیے نئی قیمتوں کے تعین کی بھی منظوری دی ہے۔ قادر پور گیس فیلڈ پاکستان کا سب سے بڑا گیس فیلڈ ہے جو سنہ انیس سو نوے میں دریافت ہوا۔ اس فیلڈ سے پہلے مرحلے میں ستمبر سنہ انیس پچانوے میں دو سو ملین مکعب فٹ ’ایم ایم سی ایف ڈی‘ گیس نکالی گئی اور جون سنہ انیس سو ستانوے سے تین سو چالیس ایم ایم سی ایف ڈی گیس نکل رہی ہے۔

"پاکستانی چینی دنیا میں اچھی کوالٹی کی چینی مانی جاتی ہے اور اس وقت دنیا میں پاکستانی چینی کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ روز سنگاپور میں چینی کی منڈی میں پاکستانی چینی فی ٹن پانچ سو تیس ڈالر میں فروخت ہوئی جبکہ بھارت، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کی چینی کی قیمت پاکستانی چینی سے کم ہے۔"

ماہرین

اس فیلڈ میں گیس کے ذخائر 3.895 ٹرلین کیوبک فٹ ہے اور تین سو چالیس ایم ایم سی ایف ڈی گیس بیس سال تک ملتی رہے گی۔ یہ گیس فیلڈ سندھ کے شہر گھوٹکی میں واقع ہے لیکن اس فیلڈ کی گیس پنجاب اور خیبرپختونخوا کو فراہم کرنے والی کمپنی سوئی ناردرن گیس کمپنی استعمال کرتی ہے۔

قادرپور گیس فیلڈ میں پچھہتر فیصد حصص پاکستان کی ’او جی ڈی سی ایل‘ اور سات فیصد پاکستان پیٹرولیم کے ہیں جبکہ اٹھارہ فیصد حصص برطانیہ کی دو کمپنیوں پریمیئر کنسالیڈیٹڈ اور برما آئل کے پاس ہیں۔

قادرپور گیس فیلڈ کے مالکان کا مطالبہ تھا کہ پرویز مشرف کے دور میں متعارف کردہ پیٹرولیم پالیسی کے تحت جو نرخ غیر ملکی کمپنیوں کو مل رہے ہیں وہ انھیں بھی دیے جائیں اور ان کا اطلاق اس فیلڈ سے گیس نکلنے کے وقت سے کیا جائے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر ایسا کیا تو سوئی ناردرن گیس کمپنی کو پندرہ ارب روپے دینے ہوں گے لیکن فریقین میں اب یہ طے پایا ہے کہ دو سو ملین ڈالر فی میٹرک ٹن کے حساب سے معاوضہ دیا جائے گا اور اس کا اطلاق منظوری کے دن سے ہوگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔