اقلیتوں کے لیے نشستیں بڑھانے کی منظوری

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 دسمبر 2012 ,‭ 17:15 GMT 22:15 PST

موجودہ حکومت ایوان بالا سینٹ میں پہلے ہی اقلیتوں کی چار نشستیں بڑھا چکی ہے

پاکستان کی مرکزی حکومت نے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کی مخصوص نشستوں میں اضافے کی منظوری دیتے ہوئے وزارت قانون و انصاف کو ہدایت کی ہے کہ اس بارے میں جلد سے جلد آئینی ترمیمی بل پارلیمان سے منظور کرایا جائے۔

یہ بات وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے بدھ کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ کے دوران بتائی۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اتفاق رائے سے اقلیتوں کے لیے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں کل گیارہ نشستیں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی چار، سندھ میں تین، پنجاب میں دو جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ایک ایک نشست بڑھ جائے گی اور یوں قومی اسمبلی میں اقلیتوں کے لیے چودہ، سندھ اسمبلی میں بارہ، پنجاب میں دس جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں چار چار نشستیں مخصوص ہو جائیں گی۔

قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ یہ فیصلہ کر کے جہاں انہوں نے اپنی جماعت کے منشور پر عمل کیا ہے وہاں حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کیےگئے میثاقِ جمہوریت پر بھی عمل کیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ حکومت کی کوشش اور خواہش ہوگی کہ اقلیتوں کے لیے نشستیں بڑھانے کے بارے میں آئینی ترمیمی بل کی منظوری حکومت کی مارچ میں مدت پوری ہونے سے پہلے کرائی جائے تاکہ آئندہ عام انتخابات میں اقلیتوں کو وسیع نمائندگی ملے۔

وزیر اطلاعات کے ساتھ قومی ہم آہنگی کے وزیر مملکت اکرم مسیح گل بھی موجود تھے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ اقلیتوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوگیا ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں انیس سو پچاسی سے اقلیتوں کی نشستیں نہیں بڑھائی گئی ہیں۔

" وفاقی کابینہ نے اتفاق رائے سے اقلیتوں کے لیے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں نشستیں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی نشستیں دس سے بڑھ کر چودہ ہوجائیں گی۔"

وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ

واضح رہے کہ موجودہ حکومت ایوان بالا سینیٹ میں پہلے ہی اقلیتوں کی چار نشستیں بڑھا چکی ہے۔

وزیرِ اطلاعات نے بریفنگ میں بتایا کہ کابینہ نے پاکستان میں کرپشن بڑھنے اور مختلف تنظیموں اور اداروں کی جانب سے کرپشن کے اعداد وشمار کو بڑھا چڑھا کر بتانے کا نوٹس لیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے حال ہی میں اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں روزانہ سات ارب روپے کی بدعنوانی ہوتی ہے۔

وفاقی وزیر نے اس رپورٹ کو غلط قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرپشن تو ہوتی ہے لیکن اتنی نہیں ہوتی۔ انہوں نے بتایا کہ حقائق جاننے کے لیے چار رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کل بجٹ تیس کھرب روپے ہے اور اس کا بڑا حصہ، قرضوں کی ادائیگی اور دفاع پر خرچ ہوتا ہے۔

قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ اگر سات ارب روزانہ کرپشن ہو تو سال میں یہ رقم ساڑھے پچیس سو ارب ہوتی ہے جو ہمارے ملک کے بجٹ کے برابر ہے اور ایسا ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد زیادہ وسائل صوبوں کو چلے گئے ہیں اور میڈیا وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومتوں پر بھی نظر رکھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔