حقانی نیٹ ورک سے بات ہو سکتی ہے:رچرڈ اولسن

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 دسمبر 2012 ,‭ 11:34 GMT 16:34 PST
 رچرڈ اولسن

انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا بہت ضروری ہے: رچرڈ اولسن

پاکستان کے لیے امریکہ کے نئے سفیر رچرڈ اولسن کا کہنا ہے کہ افغانستان کی حکومت نے مفاہمت کی پالیسی کے جو اصول وضع کیے ہیں ان کا اطلاق حقانی نیٹ ورک سمیت تمام شدت پسند گروہوں پر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ افغان مفاہمتی پالیسی کے تین اصولوں تشدد کے خاتمے، بین الاقوامی تشدد سے قطع تعلق اور افغانستان کے آئین کے احترام کو جو بھی اپنانے کے تیار ہوگا اسے مفاہمت کے دائرہ کار میں لایا جائےگا۔

امریکی سفیر نے یہ بات اسلام آباد میں بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہی۔

رچرڈ اولسن کے مطابق گو کہ افغان مفاہمتی پالیسی پر بات کرنا یا اسے طے کرنا ان کا نہیں بلکہ افغانستان کی حکومت کا کام ہے مگر اس کا اطلاق سب گروہوں پر ہے۔

انہوں نے ساتھ ہی حقانی نیٹ ورک کے بارے میں امریکہ کی تشویش کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو انتہا پسندی اور تشدد کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے، کچھ گروہوں جن میں حقانی نیٹ ورک شامل ہے ان کے بارے میں بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے، اب اس بارے میں مناسب اقدامات لینا پاکستان کی حکومت کا کام ہے۔

اس سوال پر کے پاکستان کے ساتھ نئےاور بہتر تعلقات کے قیام کے لیے ان کی پالیسی اپنے پیش رو سے کتنی مختلف ہوگی، امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہمارے تعلقات میں کچھ مشکل مرحلے آئے مگر میں پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے اس بیان سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہمارے تعلقات اب مثبت سمت میں گامزن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے رسد کا راستہ دوبارہ کھول دینا سب سے اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس حوالے سے تعلقات میں شدید تناؤ تھا۔ انہوں نے تعلقات میں استحکام کے لیے بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے کو اہم قرار دیا۔

"امریکہ نہیں سمجھتا کہ طالبان کے ساتھ ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف ان کے ساتھ لڑائی میں کوئی اختلافی بات ہے۔ جو بات واضح ہے وہ یہ کہ ریاست کے خلاف جنگ میں ملوث کسی بھی تنظیم کا کوئی بھی رکن اگر افغانستان کی مفاہمتی پالیسی کی اصولوں پر عمل کرے گا اس سے بات ہو سکتی ہے۔"

امریکی سفیر رچرڈ اولسن

اس خیال پر کہ ڈرون حملے پاک امریکہ تعلقات کا سب سے تلخ پہلو ہیں، رچرڈ اولسن نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پرتشدد انتہا پسندی کے مشترکہ خطرے سے پاکستانی اور امریکی عوام دونوں متاثر ہو رہے ہیں اور یہ یقیناً پوری دنیا کے لیے بھی چیلینج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ مل کر اس کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقے سوات میں پاکستانی ریاست کے خلاف برسرِ پیکار رہنے والے پاکستان کو انتہائی مطلوب تحریک طالبان سوات کے سربراہ مولوی فضل اللہ کے بارے میں رچرڈ اولسن نے کہا کہ اگر کوئی مستند انٹیلیجنس ملتی ہے تو امریکہ ان کے خلاف کارروائی کرنے اور انہیں میدان جنگ سے ہٹانے کے لیے تیار ہوگا۔

اس سوال پر کہ کیا طالبان کے ساتھ یک طرف خفیہ مذاکرات اور دوسری طرف ان پر پاکستان اور افغانستان میں حملے کرنا دانشمندانہ پالیسی ہے، امریکی سفیر نے کہا کہ جو بات اہم ہے وہ یہ کہ مفاہمت کی پالیسی افغانستان کی ہے جس پر پاکستان کی حمایت کرنے کی پالیسی کا وہ خیر مقدم کرتے ہیں۔

مگر ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’امریکہ نہیں سمجھتا کہ طالبان کے ساتھ ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف ان کے ساتھ لڑائی میں کوئی اختلافی بات ہے۔ جو بات واضح ہے وہ یہ کہ ریاست کے خلاف جنگ میں ملوث کسی بھی تنظیم کا کوئی بھی رکن اگر افغانستان کی مفاہمتی پالیسی کے اصولوں پر عمل کرے گا اس سے بات ہو سکتی ہے‘۔

اس سوال پر کہ کیا امریکہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن چاہتا ہے امریکی سفیر نے اسے پاکستان کا اندرونی سکیورٹی کا معاملہ قرار دیا۔

امریکہ کے پاکستان کو کئی معاملات میں بائی پاس کرنے کی پالیسی پر رچرڈ اولسن نے کہا کہ پاکستان نیٹو کا رکن نہ ہونے کے باوجود امریکہ کا اہم اتحادی ہے اور دونوں کے تعلقات کی تاریخ پینسٹھ سالوں پر محیط ہے۔

"ہمارا گھوڑا جمہوریت ہے اور ہم صاف اور شفاف انتخابات کے حق میں ہیں جس کے نتیجے میں عوام کی منتخب کی گئی ایک سویلین حکومت سے دوسری کو اقتدار کی منتقلی ہو۔"

رچرڈ اولسن

انہوں نے کہا کہ ’امریکہ پاکستان کی حکومت پر اعتماد کرتا ہے، میرے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں کہ پاکستان کی حکومت کو اسامہ بن لادن کی ملک میں موجودگی کاعلم تھا، ہم تعلقات کی بہتری کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں‘۔

رچرڈ اولسن نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ’امریکہ کی طرح پاکستان کو بھی پرتشدد انتہا پسندی کے چیلنج کا سامنا ہے جس کے علاوہ پاکستان کو اندرونی چیلینجز بھی لاحق ہیں جن سے نمٹنا پاکستانی حکومت اور عوام کا کام ہے، سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے آپ کو اس حوالے سے کیا گریڈ دیتا ہے، میں یا باہر کا کوئی بھی آدمی ایسا نہیں کر سکتا‘۔

رچرڈ اولسن کے مطابق پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ اس جنگ میں پچھلے دس سالوں میں تقریباً چالیس سے پچاس ہزار پاکستانی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ انفراسٹرکچر اور ترقیاتی کاموں پر بھی منفی اثر پڑا ہے جس کا اعتراف کرنا اہم ہے۔

امریکی سفیر نے مزید کہا کہ ’پاکستان کی معاشی ترقی ہمارا مشترکہ ایجنڈا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی عوام کا مستقبل روشن اور تابناک ہو اور ساتہ ہی ایک دوسرے کی عزت کرتے رہیں‘۔

پاکستان میں آئندہ عام انتخابات میں کسی ’سیاسی گھوڑے‘ پر شرط لگانے کے سوال پر امریکی سفیر نے شگفتہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا گھوڑا جمہوریت ہے اور ہم صاف اور شفاف انتخابات کے حق میں ہیں جس کے نتیجے میں عوام کی منتخب کی گئی ایک سویلین حکومت سے دوسری حکومت کو اقتدار کی منتقلی ہو‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔