ٹرکوں کی ہڑتال سے ملکی برآمدات متاثر

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 دسمبر 2012 ,‭ 15:32 GMT 20:32 PST

پاکستان میں مال بردار ٹرکوں کی مسلسل گیارہ روز سے جاری ہڑتال کے باعث پاکستان کی برآمدات اور درآمدات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اب تک ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی ملکی برآمدات نہیں ہو سکی ہیں۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو مال بردار ٹرکوں کی ہڑتال کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے اور ان کی ہڑتال کو ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ پاکستانی برآمدات کو مزید نقصان نہ پہنچے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی برآمدات کو گزشتہ گیارہ دن کے دوران پہنچنے والے نقصان کا ازالہ اگلے کئی مہینوں تک بھی ممکن نہیں ہو سکے گا۔

مال بردار ٹرکوں یا گڈز کیریئرز نے ہڑتال کا آغاز گیارہ دن پہلے کیا تھا اور ان کے مطالبات میں بھتہ خوری کو ختم کیا جانا، شاہراہوں کی مرمت اور موٹروے پولیس کی مبینہ زیادتیوں کا خاتمہ وغیرہ شامل ہیں۔

مال بردار ٹرکوں کی انجمن یونائیٹڈ ٹرانسپورٹ الائنس کے رکن اور کراچی گڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے سربراہ یوسف ہارون نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے مطالبات وفاقی حکومت سے تعلق رکھتے ہیں تاہم گیارہ دن گزر جانے کے باوجود اب تک حکومت کے کسی بھی عہدیدار نے ان کی تنظیم سے رابطہ نہیں کیا ہے۔

"ہمارے مطالبات وفاقی حکومت سے تعلق رکھتے ہیں تاہم گیارہ دن گزر جانے کے باوجود اب تک حکومت کے کسی بھی عہدیدار نے ہماری تنظیم سے رابطہ نہیں کیا ہے۔"

کراچی گڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے سربراہ یوسف ہارون

پاکستان اپیریل فورم کے سربراہ جاوید بلوانی نے بی بی سی کو بتایا کہ گیارہ دنوں کی ہڑتال کے باعث ایک سو ارب روپے کی برآمدات وقت پر نہیں ہو سکی ہیں اور ان برآمدات میں پچھہتر فیصد ٹیکسٹائل کے شعبے سے تعلق رکھتی ہیں۔

ان کے بقول وہ حکومت کو اس سلسلے میں آگاہ کر چکے ہیں تاہم اب تک معاملے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

وفاقی ایوان ہائے تجارت و صنعت کی فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹ کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ عبدالواحد کا کہنا تھا کہ سبزی اور پھلوں کی ترسیل بھی بند ہوچکی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر مال بردار ٹرکوں کی ہڑتال جاری رہی تو اگلے چند روز میں ملک میں پھلوں اور سبزیوں کی قلت پیدا ہوجائے گی۔

ان کے بقول اس صنعت سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہیں اور صرف کراچی کی سبزی منڈی میں سبزی اور فروٹ سے جڑے دو سے ڈھائی لاکھ افراد روز کے کمانے والے ہیں جو بے روزگار بیٹھے ہیں۔

پاکستان آٹو موبائل سپیئر پارٹس امپورٹرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صوبائی چیئرمین نعیم احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی بندرگاہ ہے اور بحری جہازوں کے ذریعے پہلے مال کراچی آتا ہے اور پھر پورے ملک میں اس کی ترسیل کی جاتی ہے۔

ٹرانسپورٹرز کے مطالبات

مال بردار ٹرکوں یا گڈز کیریئرز نے ہڑتال کا آغاز گیارہ دن پہلے کیا تھا اور ان کے مطالبات میں بھتہ خوری کا خاتمہ، شاہراہوں کی مرمت اور موٹروے پولیس کی مبینہ زیادتیوں کا خاتمہ وغیرہ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا ’ہم نے پچھلے گیارہ دن سے مال کراچی سے باہر نہیں بھیجا ہے جبکہ ہمیں مال بھیجنے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں لہذٰا حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب پورے ملک میں آٹو پارٹس کی قلت ہونے والی ہے۔‘

نعیم احمد نے کہا کہ اگر حکومت نے گڈز ٹرانسپورٹ والوں کے ساتھ معاملہ جلد حل نہ کیا تو نہ صرف سپیئر پارٹس بلکہ ملک میں خوردنی تیل، دوائیں، کھانے پینے کی مختلف اشیاء اور دیگر چیزوں کی بھی قلت پیدا ہوجائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔