ملالہ کےلیےاجتماعی دعا: مشنری سکول کو دھمکی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 دسمبر 2012 ,‭ 17:27 GMT 22:27 PST

پاکستان کے خفیہ ادارے نے اسلام آباد میں ایک مشنری سکول کو دھمکی آمیز خط بھیجنے کے الزام میں تین افراد کو حراست میں لیا ہے

پاکستان کے سویلین خفیہ ادارے نے اسلام آباد میں ایک مشنری سکول کو دھمکی آمیز خط بھیجنے کے الزام میں تین افراد کو حراست میں لیا ہے۔

ان افراد نے مبینہ طور پر اسلام آباد کے ایک سیکٹر میں واقع چرچ اور اس کے زیرِ انتظام چلنے والے سکول میں ملالہ یوسف زئی کی جلد صحتیابی کے لیے اجتماعی دعا کروانے پر اُنہیں بم سے اُڑانے کی دھمکی دی تھی۔

خفیہ ادارے کے ذرائع کے مطابق ان افراد کو صوبہ خیبر پختونخوا کے قریبی علاقے سے حراست میں لیا گیا ہے۔ خفیہ ادارے کے ایک اہلکار کے بقول ان افراد سے اب تک کی جانے والی تفتیش میں پیشرفت ہوئی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ چرچ کے زیر انتظام چلنے والے سکول کی انتظامیہ کو مبینہ شدت پسندوں کی جانب سے موصول ہونے والے دھمکی آمیز خط کے بعد خفیہ اداروں نے اس واقعے کی تفتیش اپنے ہاتھوں میں لے لی ہے جس میں پولیس اہلکاروں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

تھانہ مارگلہ کے انچارج ارشاد ابڑو کے مطابق پولیس نے اس واقعے سے متعلق روزنامچے میں رپورٹ تو درج کرلی ہے جبکہ اس کی تحقیقات ’کہیں اور‘ ہو رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پولیس کے اعلیٰ حکام نے چرچ اور سکول کے باہر سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا حکم دیا ہے جس پر عمل درآمد کردیا گیا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ سکول کے اوقات کے دوران پولیس اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔

بی بی سی کو موصول ہونے والے اس خط میں ’ کے پی کے حملہ آور گروپ‘ کہلوانے والے شدت پسندوں نے کہا ہے کہ ملالہ پر حملہ اُنہی کے گروپ نے کیا ہے جس کی صحتیابی کے لیے چرچ میں اجتماعی دعا اُنہیں ناگوار گُزری ہے۔

اس خط میں چرچ اور اس کے زیر انتظام چلنے والے سکول کی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ایسا واقعہ پیش نہ آئے تو وہ اُنہیں پچاس لاکھ روپے ادا کریں۔ شدت پسندوں نے اس خط میں یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر اس بارے میں پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دی گئی تو نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

پہلے تو اس چرچ کے ذمہ داران میں سے کوئی بھی اس معاملے پر بات کرنے کو تیار نہیں تھا بعدازاں ایک ذمہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس دھمکی آمیز خط کی وجہ سے سکول کی انتظامیہ میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے اور بعض اساتذہ اس واقعہ کے بعد سکول نہیں آ رہے۔

اُنہوں نے کہا کہ چونکہ کرسمس کا تہوار قریب ہے اس لیے چرچ میں لوگوں کی آمد ورفت میں اضافہ ہوا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ چرچ کے انتظامیہ نے اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے مقامی انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کے دوران چرچ کے باہر جامع حفاظتی اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے جس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔