پاکستان میں وکلاء کی جزوی ہڑتال

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 دسمبر 2012 ,‭ 15:16 GMT 20:16 PST

دسمبر دوہزار آٹھ تک کے مقدمات بائیس دسمبر تک نمٹانے کی ڈیڈ لائن کے خلاف آج ملک بھر کی عدالتوں میں وکلا نے جزوی ہڑتال کی

قومی عدالتی اصلاحاتی کمیٹی کی جانب سے ماتحت عدالتوں کو دسمبر دوہزار آٹھ تک کے مقدمات اس ماہ کی بائیس تاریخ تک نمٹانے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن کے خلاف پاکستان بار کونسل کی اپیل پرآج ملک بھر کی عدالتوں میں وکلا نے جزوی ہڑتال کی۔ چند مقدمات کے علاوہ وکلا کی اکثریت عدالتوں میں پیش نہیں ہوئی جس کے باعث سائلین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں پاکستان بار کونسل کی کال پر وکلا نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ عدالتیں کھلی ہونے کے باوجود ہزاروں مقدمات کی سماعت نہیں ہوسکی اور مقدمات کی شنوائی کے لیے دور درازعلاقوں سے آنے والے ہزاروں سائلین کو ہڑتال کے باعث ویسے ہی لوٹنا پڑا۔

"ہڑتال کی کال پر بھر پور طریقے سے عمل کیا گیا ہے کیونکہ یہ کال اتفاق رائے سے دی گئی تھی۔ ہڑتال کی کال دینے سے پہلے پاکستان بار کونسل کی جانب سے چاروں ہائیکورٹس کی بار ایسوسی ایشنز اور چاروں صوبائی بار کونسلز کی تنظیموں کو اعتماد میں لیا گیا۔یہ معاملہ کیسوں کی سماعت کی ڈیڈلائن سے متعلق تھا جو ملک بھر کی وکلا برداری کے لیے انتہائی اہم تھا کیونکہ جلدبازی میں انصاف کو روندا نہیں جاسکتا"

اعظم تارڑ ایڈوکیٹ، ممبر پاکستان بار کونسل

پاکستان بار کونسل کے رکن ایڈوکیٹ اعظم تارڑ نے بی بی سی کی نمائندہ شمائلہ جعفری کو بتایا کہ ’ہڑتال کی کال پر بھر پور طریقے سے عمل کیا گیا ہے کیونکہ یہ کال اتفاق رائے سے دی گئی تھی۔ ہڑتال کی کال دینے سے پہلے پاکستان بار کونسل کی جانب سے چاروں ہائیکورٹس کی بار ایسوسی ایشنز اور چاروں صوبائی بار کونسلز کی تنظیموں کو اعتماد میں لیا گیا۔یہ معاملہ کیسوں کی سماعت کی ڈیڈلائن سے متعلق تھا جو ملک بھر کی وکلا برداری کے لیے انتہائی اہم تھا کیونکہ جلدبازی میں انصاف کو روندا نہیں جاسکتا۔‘

پاکستان بار کونسل نے قومی عدالتی اصلاحاتی کمیٹی کی جانب سے ماتحت عدالتوں کو پرانے مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ جلدبازی سے انصاف کی نفی ہوگی۔

پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چئیرمین برہان معظم کہتے ہیں کہ ’وکلا چاہتے ہیں کہ مقدمات کی تیز سماعت ہونی چاہیے لیکن اس کےلیے ڈیڈ لائن دینا مناسب نہیں۔ اگر ایک وکیل کے پاس پچاس کیسز ہیں اور اسے کہا جائے کہ وہ ایک ہفتے میں ان کا فیصلہ دے دیں تو وہ کیا کریں گے ۔ یہ اس کے بس سے باہر ہے۔‘

برہان معظم کے مطابق ’ ڈیڈ لائن کے باعث تکنیکی بنیادوں پر فیصلے دیے جارہے ہیں اور غلط فیصلوں کی وجہ سے اعلی عدالتوں میں مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا اور وکلا ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔‘

پاکستان بار کونسل کی جانب سے بیس دسمبر کو آل پاکستان وکلا کنونشن بلایا گیا ہے جس میں ملک بھر کے ایک سو چھتیس اضلاع کی بار ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کو دعوت دی گئی ہے اگر ڈیڈ لائن واپس نہ لی گئی تو اس کنونشن میں وکلا آئندہ احتجاج کے لیے اپنا لائحہ عمل طے کریں گے۔

پاکستان بار کونسل کا موقف ہے کہ ملک میں عدالتی اصلاحات کا سلسلہ خوش آئند ہے وہ دو ہزار نو کی جوڈیشل پالیسی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔پاکستان بارکونسل کے مطابق وکلا مقدمات جلد نمٹانے کے حق میں ہیں اور وہ ڈیڈ لائن پر اختلافات کے باوجود جوڈیشل پالیسی پر مرحلہ وار عمل درآمد کے لیے تعاون جاری رکھیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔