’استثنیٰ کے لیے عدالت سے رجوع ضروری ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 دسمبر 2012 ,‭ 13:00 GMT 18:00 PST

لاہور ہائیکورٹ نے صدارتی استثنیٰ مانگنے کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کو ضروری قرار دیا ہے

لاہور ہائیکورٹ نے صدر آصف علی زرداری کے دو عہدے رکھنے کے مقدمے کی سماعت کے دوران استثنیٰ مانگنے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا ضروری قرار دیا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کیس کی سماعت جمعرات کو لاہور میں کی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار اے کے ڈوگر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کسی کو سزا دلوانے کے لیے نہیں بلکہ آئین پر عمل درآمد کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی نظامِ حکومت میں صدر بے اختیار ہوتا ہے جبکہ توہینِ عدالت کی کارروائی میں صدر کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

جسٹس ناصر سعید نے کہا کہ استثنیٰ مانگنے کے لیے بھی عدالت سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

سماعت کے دوران حکومتی وکلاء نے استدعا کی کہ وکلا کی ہڑتال کے باعث سماعت نہ کی جائے ۔

تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے سماعت جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

درخواست گزار کی جانب سے کالا باغ ڈیم سے متعلق فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کے بیانات کا ذکر کرنے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور درخواست گزارکے وکیل اے کے ڈوگر کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم کا دو عہدوں کے کیس سے کوئی تعلق نہیں لہذا اس کا تذکرہ مناسب نہیں۔

بنچ نے کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔