پشاور ایئرپورٹ پر حملے میں نو افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 دسمبر 2012 ,‭ 21:42 GMT 02:42 PST

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع باچہ خان ہوائی اڈے پر شدت پسندوں کے حملے میں حکام کے مطابق پانچ حملہ آور اور چار عام شہریوں سمیت نو افراد ہلاک جبکہ چالیس زخمی ہو گئے۔

کالعدم تحریک طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے تین شدت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق ہوائی اڈے پر زمینی حملہ کرنے والے پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

ترجمان کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی ائرپورٹ کی دیوار سے ٹکرائی جس کی وجہ سے عام شہری زخمی ہوئے۔

پشاور میں ہمارے نمائندے کے مطابق ہوائی اڈے پر راکٹ اور زمینی حملے ابدرہ کے علاقے کی طرف سے کیے گئے تھے۔

سنیئیر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی نے اس حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ یہ باچہ خان ہوائی اڈہ سیویلین اور فوج کا مشترکہ ہوائی اڈہ ہے تو خدشہ ہے کہ آئندہ بھی شدت پسندوں کا ہدف رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس لیے بھی اس ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا کہ یہ اور بعض دوسرے ہوائی اڈے شدت پسندوں کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔

حملے کے نتیجے میں تباہ ہونے والا ایک رکشہ جسے راکٹ نے نشانہ بنایا۔

انہوں نے مزید کہ کہا کہ پولیس اور فوجی تنصیبات ماضی میں بھی شدت پسندوں کا حدف رہے ہیں۔

اس سے پہلے پشاور کے سپراٹنڈنٹ پولیس خالد ہمدانی نے ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا تھا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین راکٹ ہوائی اڈے کی حدود میں آ کر گرے تھے جس کے نتیجے میں ہونے والے دھماکوں سے ہوائی اڈے کی دیوار منہدم ہو گئی تھی۔

پشاور کے ڈی سی او نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حملے کے بعد ہوائی اڈے کے اطراف میں شدید دو طرفہ فائرنگ ہوئی۔

حملے کے بعد تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی سے کسی نامعلوم مقام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پانچ پانچ جنگجوؤں پر مشتمل دو گروپس نے ہوائی اڈے پر دو جانب سے حملہ کیا اور ان کا ہدف پاکستان فضائیہ کے ہیلی کاپٹر اور طیارے تھے۔

کارروائی کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک فدائی گروپ ریمورٹ کنٹرول کی مدد سے بیرونی دیوار میں شگاف کرتے ہوئے اندر داخل ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان گروپس کے پاس باردو سے بھری ایک گاڑی بھی تھی۔

حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر حفاظتی انتظامات سخت کیے گئے تھے جس کی وجہ سے حملہ آور ہوائی اڈے کے اندر داخل ہونے میں ناکام رہے تھے۔

ایک گھر جس کی چھت راکٹ گرنے سے تباہ ہو گئی تھی۔

ان کے مطابق کچھ راکٹ شہری علاقوں میں بھی گرے جن کی وجہ سے جانی نقصان ہوا۔

دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس سے آس پاس کے کئی مکانات کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔

اس حملے کے بعد ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی اور کچھ وقت کے لیے ہوائی اڈے پر آنے والی پروازوں کو روک دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ قبائلی علاقوں میں ہونے والے فوجی آپریشنز میں استعمال ہونے والے گن شپ ہیلی کاپٹر پشاور کے اسی ہوائی اڈے ہی سے پرواز کرتے ہیں اور ہیلی کاپٹر بھی یہیں تیار رہتے ہیں۔

اسی سال اگست میں کامرہ کے فوجی بیس پر بھی مسلح حملہ کیا گیا تھا جس میں نو عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

پشاور میں ہونے والے اس حملے میں زخمی ہونے والے افراد کو خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔