کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ، تین ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 17 دسمبر 2012 ,‭ 06:56 GMT 11:56 PST

پولیس اور ایف سی نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے دو واقعات میں محکمۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر اور دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

فائرنگ کا پہلا واقعہ پیر کو ضلع کچہری کے قریب شاہراہِ اقبال پر اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی۔

فائرنگ سے گاڑی میں سوار محکمۂ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر ایڈمن خادم حسین نوری موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ خادم حسین نوری کا تعلق اہلِ تشیع سے تھا۔

اس کارروائی کے بعد فرار ہونے والے حملہ آوروں کا سامنا جناح روڈ پر پولیس کی گاڑی سے ہوا اور وہاں ان کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

زخمی پولیس اہلکار کو فوری طور پر سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا ہے۔

ان ہلاکتوں کے بعد پولیس اور ایف سی نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

فی الحال کسی تنظیم نے ان ہلاکتوں کی ذمہ دار قبول نہیں کی ہے۔

بلوچستان اور خصوصاً کوئٹہ میں اہلِ تشیع سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہلاکتوں کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے۔ ان ہلاکتوں کا الزام شدت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی پر لگایا جاتا رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔